وفاقی سیکریٹری اطلاعات و نشریات اشفاق احمد خلیل نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم کی صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے ہیلتھ انشورنس اسکیم جلد دوبارہ شروع کی جائے گی، جسے پہلے سے زیادہ بہتر اور جامع شکل دی جائے گی تاکہ صحافتی برادری کو علاج معالجے کی مؤثر سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔انہوں نے یہ اعلان نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں آل پاکستان نیوز پیپرز اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایمپلائز کنفیڈریشن (ایپنک) گلگت بلتستان چیپٹر کے نومنتخب عہدیداران کی تقریب حلف برداری سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ صحافت حکومت اور عوام کے درمیان ایک اہم پل کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ صحافی اور میڈیا ورکرز عوامی مسائل اجاگر کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا انڈسٹری سے وابستہ کارکنوں کی خدمات کا اعتراف اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔اشفاق احمد خلیل کا کہنا تھا کہ صحافیوں کی فلاح و بہبود حکومت کی توجہ کا اہم شعبہ ہے اور میڈیا ورکرز کو بہتر پیشہ ورانہ ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور تنظیموں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صحافتی برادری کے مسائل کے حل کے لیے ان کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔
سابقہ اسکیم کے تحت سات لاکھ روپے تک علاج کی سہولت
دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق وزیراعظم ہیلتھ انشورنس پروگرام کے سابقہ مرحلے میں رجسٹرڈ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو سالانہ سات لاکھ روپے تک اسپتال میں داخلے اور علاج کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔اس کے علاوہ کینسر کے علاج کے لیے منتخب مراکز پر اضافی تین لاکھ روپے، جان لیوا بیماریوں کی صورت میں مزید ساڑھے تین لاکھ روپے اور گردوں کی پیوندکاری کے لیے منتخب مراکز پر مکمل کوریج کی سہولت شامل تھی۔قومی اسمبلی میں پیش کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سابقہ پروگرام میں 4 ہزار 537 صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو رجسٹرڈ کیا گیا تھا، جن میں سے 187 افراد نے علاج معالجے کی سہولت حاصل کی۔ حکومت نے مزید 10 ہزار تصدیق شدہ صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو پروگرام میں شامل کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا تھا۔
نئی اسکیم کے لیے رجسٹریشن اور اہلیت کی تفصیلات کا انتظار
وزیراعظم ہیلتھ انشورنس اسکیم کے نئے مرحلے کے آغاز کی حتمی تاریخ، علاج کی نئی مالی حد، مستحق افراد کی تعداد اور رجسٹریشن کا طریقہ کار تاحال باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا گیا۔تاہم پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر سابقہ اسکیم کے لیے رجسٹریشن، انشورنس اسٹیٹس معلوم کرنے، متعلقہ اسپتالوں کی فہرست اور دیگر معلومات کے لنکس موجود ہیں۔ نئی اسکیم میں ان سہولتوں اور شرائط کی دستیابی کا تعین حکومتی نوٹیفکیشن کے بعد ہوگا۔ تقریب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود، پرنسپل انفارمیشن آفیسر رئیسہ عادل اور ایپنک کے چیئرمین محمد صدیق انظر نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے روزگار کے تحفظ، معاشی استحکام اور فلاحی سہولتوں کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔صحافتی حلقوں کے لیے ہیلتھ انشورنس اسکیم کی بحالی ایک اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے، تاہم اس کے عملی فوائد کا انحصار نئے پروگرام کی شرائط، اسپتالوں تک رسائی اور مؤثر نفاذ پر ہوگا۔
15