پیکا کیس، اقرار الحسن کی ضمانت، جیل سے رہا۔۔ 12

پیکا کیس، اقرار الحسن کی ضمانت، جیل سے رہا۔۔

اقرار الحسن کو بڑی قانونی ریلیف مل گئی، کراچی کی عدالت نے پیکا کیس میں ضمانت منظور کرلی۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کی مقامی عدالت نے معروف صحافی، اینکر پرسن اور عوام راج پارٹی کے سربراہ اقرار الحسن کی پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔31 اکتوبر 2026 کو جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی ایسٹ گلریز میمن نے اقرار الحسن کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔اقرار الحسن کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مبینہ طور پر ریاست مخالف، جھوٹا اور ہتک آمیز مواد نشر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔اقرار الحسن کے وکیل ایڈووکیٹ احمد مسعود کے مطابق تحقیقاتی ادارے کی جانب سے مقدمے کا چالان عدالت میں جمع کرایا جا چکا تھا، جبکہ ان کے موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات بھی حکام کی تحویل میں تھے۔دورانِ سماعت NCCIA نے عدالت کو بتایا کہ اقرار الحسن سے مزید تفتیش درکار نہیں، تاہم ان کے ڈیجیٹل آلات کی فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے۔یاد رہے کہ 22 اکتوبر کو کراچی کی عدالت نے اقرار الحسن کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد ان کے وکلا نے سیشن عدالت سے رجوع کیا۔بعدازاں 28 اکتوبر کو کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جس کے بعد 31 اکتوبر کو ضمانت منظور ہونے کی خبر سامنے آئی۔مقدمے کے مطابق اقرار الحسن پر الزام تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، فیس بک اور انسٹاگرام کے ذریعے ریاست، اداروں اور سرکاری عہدیداروں کے خلاف مبینہ طور پر غلط، من گھڑت اور ہتک آمیز مواد پھیلایا۔یہ الزامات تاحال عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے اور مقدمے کی قانونی کارروائی جاری رہے گی۔اقرار الحسن کی ضمانت کی منظوری کو ان کے لیے ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ضمانت کا فیصلہ مقدمے سے بریت تصور نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں