کانٹریکٹ سسٹم نہیں چلے گا،روزنامہ جنگ کے 68 ملازمین کی مستقلی کاحکم ۔۔۔۔ 43

کانٹریکٹ سسٹم نہیں چلے گا،روزنامہ جنگ کے 68 ملازمین کی مستقلی کاحکم ۔۔۔۔

روزنامہ جنگ کے 68 ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے پانچ سال سے جاری قانونی جدوجہد میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی) کے تین رکنی فل بینچ نے جمعہ 30 اکتوبر کو ملازمین کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔اور واضح کردیا کہ جنگ گروپ ممیں کانٹریکٹ سسٹم نہیں چلے گا۔۔ملازمین کی مستقلی کا معاملہ طویل عرصے سے قانونی کارروائی کا حصہ رہا ہے۔ پانچ سالہ جدوجہد کے دوران متاثرہ کارکن اپنے روزگار کے تحفظ اور مستقل ملازمت کے حقوق کے حصول کے لیے قانونی فورم سے رجوع کرتے رہے۔
اس مقدمے کا پس منظر روزنامہ جنگ راولپنڈی کے ملازمین اور انتظامیہ کے درمیان جاری روزگار سے متعلق تنازع سے بھی جڑا ہوا ہے۔ مئی 2025 میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق این آئی آر سی کے اسلام آباد بینچ نے 20 مئی 2025 کو ملازمین کی مستقلی کے حق میں فیصلہ دیا تھا، تاہم اس کے بعد 80 سے زائد کارکنوں کی برطرفی کا معاملہ سامنے آیا، جس پر صحافتی تنظیموں نے شدید تشویش ظاہر کی تھی۔ مختلف صحافتی تنظیموں نے اس موقع پر مؤقف اختیار کیا تھا کہ طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کو ملازمت کا تحفظ اور قانون کے مطابق مراعات فراہم کی جانی چاہئیں۔ تنظیموں نے برطرف ملازمین کی بحالی اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ حکام سے مداخلت کا مطالبہ بھی کیا تھا۔این آئی آر سی قومی سطح پر صنعتی تعلقات، ملازمین کی شکایات، غیر منصفانہ لیبر پریکٹسز اور آجر و کارکن کے درمیان تنازعات کی سماعت کرنے والا قانونی ادارہ ہے۔ کمیشن کے قواعد کے مطابق تین یا اس سے زیادہ ارکان پر مشتمل فل بینچ سنگل بینچ کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرتا ہے۔ ملازمین کے حق میں تازہ فیصلے کو پانچ سالہ جدوجہد کے تناظر میں ایک اہم قانونی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم فیصلے پر عمل درآمد، ملازمت کی مستقلی کی مؤثر تاریخ، سابقہ واجبات، تنخواہوں اور دیگر مراعات کی ادائیگی سے متعلق صورتحال تحریری حکم سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔صحافتی کارکنوں کے لیے یہ مقدمہ ملازمت کے تحفظ، لیبر قوانین کے نفاذ اور مستقل نوعیت کی خدمات انجام دینے والے کارکنوں کے قانونی حقوق کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ سال 2020 میں جب میڈیا انڈسٹری میں جبری برطرفیوں کا طوفان آیا تو روزنامہ جنگ کے ہزاروں محنت کشوں کو بھی بے روزگار کر دیا گیا ۔رہ جانے والے چند سو ملازمین میں سے 68 ملازمین نے حقوق کے لئے عدالتوں کو رخ کیا انہوں نے 2020 میں ہی NIRC اور لیبر کورٹس میں اپنے حق کے لیے مقدمات دائر کیے۔ یہ ایک دن کی لڑائی نہیں تھی، یہ پانچ سالہ طویل، صبر آزما اور تکلیف دہ جنگ تھی۔ پیشیاں، تاریخیں، وکلاء، دفتروں کے چکر، اور انتظامیہ کا دباؤ — جھوٹی ایف آئی آر ہر قدم پر آزمائش۔ جون 2025 میں سنگل بینچ نے ان تمام ملازمین کو مستقل کر دیا لیکن جنگ انتظامیہ نے اس عدالتی فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا اور فل بینچ میں اپیل دائر کر دی اور اج ایک سال بعد آخرکار NIRC کے فل بینچ نے انتظامیہ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے 68 ملازمین کو ریگولر کرنے کا تاریخی فیصلہ سنا دیا۔ اس سے پہلے سنگل بینچ بھی ملازمین کے حق میں فیصلہ دے چکا تھا جسے جنگ انتظامیہ نے ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
اس پوری پانچ سالہ جدوجہد کا سب سے روشن پہلو جنگ کے ورکروں کی اپنی یکجہتی ہے۔ کنٹریکٹ جنگ یونین کے سرخیل عمران بٹ، جبکہ راولپنڈی اسلام آباد کے ہزاروں ملازمین اور درجن سے زائد یونین تھی لیکن چند یونین ساتھیوں کے سوا کسی نے ساتھ نہ دیا جبکہ راولپنڈی میں سے چند ساتھیوں نے اس تحریک میں مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہوئے وہ چند دوست و صحافی عبدالجبار ملک انیلہ محمود وقاص چوہدری ذیشان عرف شانی یہ وہ ورکر ساتھی تھے جو اس تحریک میں ہراول دستے کے طور پرساتھ چلے جنگ ورکروں جس طرح ایک دوسرے کا ساتھ کھڑے رہے جس کی مثال نہیں ملتی ، وہ دیگر تمام میڈیا ہاؤسز اور یونینز کے لیے ایک مثال ہے۔ یہ کامیابی خالصتاً ان ورکرز کی اپنی قربانی کا نتیجہ ہے۔ اور دوسرا، اسی کہانی کا سب سے تاریک اور تلخ پہلو وہ مجرمانہ خاموشی ہے جو اسی گروپ کے خود کو نامور کہلانے والے بڑے ناموں نے اختیار کیے رکھی۔ یہی وہ لوگ ہیں جو روزانہ ٹی وی سکرینوں پر پورے پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور آئین پر عمل درآمد کی بات کرتے ہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ جس ادارے میں یہ خود کام کرتے ہیں وہی ادارہ عدالت کے فیصلے اور قانون پر عمل نہیں کر رہا تھا، اور یہ سب خاموش تماشائی بنے رہے۔ ورکرز کا الزام ہے کہ یہ بڑے اینکرز انہی راہداریوں اور دفتر کے برآمدوں سے گزر کر جاتے تھے جہاں یہ 68 ملازمین اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرتے تھے مگر کبھی کسی پلیٹ فارم پر اپنے ہی ساتھی ورکروں کے حق میں ایک لفظ تک نہیں کہا۔
اب جبکہ NIRC کے فل بینچ نے ایک تاریخی اور حتمی فیصلہ دے دیا ہے تو ان خود ساختہ نامور صحافیوں اور قائدین سے سوال ہے کیا اب بھی آپ خاموش رہیں گے؟ کیا آپ روزنامہ جنگ کی انتظامیہ کو یہ مشورہ دیں گے کہ عدالت کے اس فیصلے پر فوری عمل درآمد کرے؟ یا پھر اسی طرح آنکھیں بند رکھیں گے؟اگر آپ پورے ملک میں قانون پر عمل درآمد کی بات کرتے ہیں تو اس کا آغاز آپ کو اپنے ہی ادارے سے کرنا ہوگا۔ ورنہ تاریخ یہ ضرور لکھے گی کہ جب 68 مظلوم ورکرز پانچ سال تک انصاف کے لیے لڑ رہے تھے تو اسی ادارے کے بڑے ناموں نے ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے خاموشی کو ترجیح دی۔یہ فیصلہ میڈیا انڈسٹری کے ہزاروں کنٹریکٹ ملازمین کو دیگراخبارات اور ٹی وی چینل سے منسلک ہیں ان کے لیے ایک امید اور نظیر بن چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں