سنو نیوز میں تنخواہ نہ ملے تین ماہ ہو گئے ۔ ملازمین کا صبر کا پیمانہ جواب دے گیا ۔ اسلام آباد بیورو نے کام چھوڑ دیا ہے ۔ جمعہ کے روز مارننگ شفٹ شروع ہوتے ہی اسائنمنٹ ڈیسک اور رپورٹرز نے آفیشل گروپ میں میسج ڈال دیئے کہ تین ماہ سے تنخواہ نہ ملنے سے شدید پریشان ہیں ۔ ایک نے لکھا کہ عدم ادائیگی پر بجلی کا کنکشن کٹ چکا ہے ۔ دوسرے نے لکھا فیس نہ دینے پر اسکول نے بچوں کو واپس گھر بھیج دیا ہے ۔ تیسرے نے لکھا کہ ہم اسلام آباد میں پردیسی ہیں اور تین ماہ سے تنخواہ نہیں مل رہی ۔متعدد اسٹاف ممبرز اس وقت اپنے کام کے علاؤہ بائیکیا چلانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ کئی ملازمین کے سوئی گیس، بجلی کے میٹر اتر چکے جبکہ کچھ کے بچوں کو اسکول سے نکال دیا گیا ہے۔ ایک ایک کرکے زیادہ تر رپورٹرز نے تنخواہ ملنے تک کام روک دیا ہے ۔ اسائنمنٹ ڈیسک اور رپورٹرز کے میسجزپربیورو چیف ، ڈائریکٹر نارتھ یا ہیڈ آفس سے کسی اعلیٰ افسر نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ اسلام بیورو میں پہلے ہی پٹرول نہ ہونے کی وجہ کافی عرصے سے ڈی ایس این جیز گراؤنڈ ہیں اور کوریج کا دارومدار سرکاری ٹی وی اور دیگر ذرائع پر منحصر ہے ۔ پپو کا کہنا ہے کہ کراچی بیورو کے رپورٹرز بھی وقتا فوقتاً تنخواہ کے لیے آواز اٹھاتے رہتے ہیں ۔ لاہور سمیت باقی بیوروز میں بھی بے دلی پائی جارہی ہے ۔ پپو کے مطابق کچھ روز پہلے پروگرام اور نیوز اینکرز اور کچھ افسران کو تنخواہیں دی گئیں جس کے بعد ہیڈ آفس میں غصے اور بےبسی کی ملی جلی کیفیت دیکھی گئی ۔ پپو کے مطابق ملازمین اس بات پر زیادہ پریشان ہیں کہ اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ یا کوئی اعلی افسر کوئی بھی حتمی بات کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ پپو کا کہنا ہے دو تین روز پہلے نیوزروم میں پروڈکشن ڈیپارٹمنٹ نے دوپہر میں یہ کہتے ہوئے کا چھوڑ دیا کہ جب تک تنخواہ سے ملتے کچھ کلیئر نہیں کیا جاتا تب تک کام نہیں کریں گے ۔ اس کے بعد صورتحال کو سنبھالتے ہوئے اگلے روز کی یقین دہانی کرائی گئی اور پھر وعدے کے مطابق کیش میں سیلری ادا کر دی گئی ۔ نیوز روم نے جولائی کی تنخواہ ملنے پر تھوڑا سکھ کر سانس لیا لیکن اس کے بعد مزید ڈیپارٹمنٹس سے بھی کام چھوڑنے کی اطلاعات آنے لگی ہیں ۔ پپو کے مطابق صورت حال یہ ہے ہفتے میں کئی دن آفس کی چائے بھی یہ کہہ کر نہیں ملتی کہ چائے بنانے کا سامان نہیں دیا گیا ہے ۔ تین ماہ کی تنخواہیں نہ ملنے کی پریشانی کے ساتھ پپو کا یہ بھی کہنا ہے کہ ادارے کی جانب سے ایک ماہ سے اسٹاف نکالنے کی نئی فہرست بنانے کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں ۔ جس سے ملازمین دوہری ذہنی اذیت کا شکار ہیں ۔ انتظامیہ کی جانب سے مالی مشکلات سے نمٹنے کے لیے آپریشنز کو بھی محدود کیا جارہا ہے ۔ سنو ڈیجیٹل کا الگ سے بنایا گیا آفس ختم کرکے اسے ہیڈ آفس کے پاس ہی منتقل کیا جارہا ہے ۔ اکثریتی سٹاف کو بھی گھر بھیج دیا گیا ہے ۔ اسی طرح کئی اسٹاف ممبرز خود سے بھی ادارے سے الگ ہو چکے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے یہی تاثر دیا جارہا ہے کہ جو جاتا ہے اسے جانے دیں تاکہ ملازمین کو نکالنے کا الزام نہ آئے ۔ پپو کے مطابق افسران کی جانب سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ دسمبر تک حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے لیکن ملازمین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے دو ہزار پچیس کے پہلے مہینے میں مالی مشکلات کا رونا روتے ہوئے ایک لاکھ سے اوپر تنخواہوں پر کم ازکم پندرہ فیصد کٹ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ چھ ماہ کے لیے ہے لیکنن دو سال مکمل ہونے پر آئے ہیں وہ کٹ ختم نہیں کیا گیا ہے ۔ اس سال کے شروع میں سو سے زائد اسٹاف کی چھانٹی کے آغاز پر شدید ردعمل آیا جس پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سنو نیوز کے سرکاری اشتہارات بند کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ایک اعلی افسر نے ایک پروگرام اینکر کے ساتھ اسلام آباد جاکر وزیر سے ملاقات کی جس کے بعد چھانٹی کا مزید عمل رک گیا ۔ اس دوران فارغ کیے گئے کچھ رپورٹرز کی بحالی کا فیصلہ بھی ہوا لیکن وہ رپورٹ آج بھی اپنی بحالی کے منتظر ہیں ۔
79
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل