اے آر وائی کی خاتون رپورٹرکو دھمکیاں،شوہر پر تشدد۔۔۔ 111

اے آر وائی کی خاتون رپورٹرکو دھمکیاں،شوہر پر تشدد۔۔۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظور احمد رند ، جنرل سیکرٹری شاہ حسین ترین اور کابینہ و مجلس عاملہ کے اراکین نے اپنے مشترکہ بیان میں اے آر وائی نیوز کی۔خاتون رپورٹر عطیہ اکرم اور امین اللہ مینگل کیساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت اور تشویش کا اظہار کیا ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ خاتون رپورٹر عطیہ اکرم اور اس کے شوہر کیمرہ مین امین اللہ مینگل اپنی گاڑی میں پریس کلب جارہے تھے تو کوئٹہ کے جی پی او چوک پر نامعلوم افراد نے خاتون رپورٹر عطیہ اکرم کو ہراساں کیا شوہر کو دھمکیاں دیں، منع کرنے پر خاتون رپورٹر کے شوہر کیمرہ مین امین اللہ مینگل کو زدوکوب کیا مکے برسائے کہا آئندہ اسے گھر سے نکلنے مت دینا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت موقع پر پولیس اہلکار بھی موجود تھے مگر اس کے باوجود ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔بی یو جے قیادت نے آئی جی پولیس ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ اور پولیس کے دیگر اعلیٰ حکام سے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے حملہ کرنے والے ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ بی یو جے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بی یو جے متاثرہ اے آر وائی نیوز کی خاتون رپورٹر اور کیمرہ مین کے کے ساتھ ہے خاتون صحافی کو ہراساں کرنے اور کسی بھی قسم کی بدتمیزی پر چشم پوشی نہیں کی جاسکتی اس سلسلے میں متعلقہ تھانے میں کارروائی کیلئے درخواست دے دی گئی ہے واقعہ کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔۔
بلوچستان میڈیا فورم کے مرکزی بیان میں اے آر وائی نیوز کی خاتون رپورٹر عطیہ اکرم اور ان کے شوہر کیمرہ مین امین اللہ مینگل کو کوئٹہ کے جی پی او چوک پر نامعلوم افراد کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور دھمکیاں دینے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اور آئی جی پولیس بلوچستان، ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور متاثرہ صحافیوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ بلوچستان میڈیا فورم کے رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ خاتون رپورٹر عطیہ اکرم اور ان کے شوہر کیمرہ مین امین اللہ مینگل اپنی گاڑی میں پریس کلب جا رہے تھے کہ کوئٹہ کے جی پی او چوک پر نامعلوم افراد نے خاتون رپورٹر کو ہراساں کیا اور ان کے شوہر کو دھمکیاں دیں۔جو کھلی دہشتگردی ہے۔ مزاحمت کرنے اور منع کرنے پر کیمرہ مین امین اللہ مینگل کو مبینہ طور پر زدوکوب کیا گیا اور دھمکیاں دی گئیں۔ بیان کے مطابق واقعے کے وقت موقع پر پولیس اہلکار بھی موجود تھے، تاہم اس کے باوجود ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جو پولیس کی کارکردگی اور شہریوں، بالخصوص صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ خاتون صحافی کو ہراساں کرنا، ان کے ساتھ بدتمیزی کرنا اور ان کے اہل خانہ کو تشدد و دھمکیوں کا نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لیے کام کرتے ہیں اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف صحافیوں کے تحفظ بلکہ آزادیٔ صحافت کے لیے بھی تشویش ناک ہیں۔ بیان میں کہاگیا ہے۔ کہ بلوچستان میڈیا فورم متاثرہ خاتون رپورٹر عطیہ اکرم اور کیمرہ مین امین اللہ مینگل کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ اگر ملزمان فوری گرفتار نہ کیے گئے۔ تو صوبے بھر میں احتجاجی تحریک شروع کرنے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں