بحریہ ٹاون کا خوبصورت چہرہ ماند کیوں پڑا۔ 33

بحریہ ٹاون کا خوبصورت چہرہ ماند کیوں پڑا۔

تحریر۔۔۔ شاہد غزالی
بحریہ ٹاؤن کراچی کو جب ’’اسٹیٹ آف دی آرٹ‘‘ کہا گیا تو بحریہ ٹاؤن نے اپنی تعمیرات، ڈیزائننگ، انفرااسٹرکچر، صفائی ستھرائی، سڑکوں، پارکس، سیکیورٹی اور مجموعی مینجمنٹ کے ذریعے کافی حد تک یہ ثابت بھی کیا کہ جدید طرزِ زندگی اور منصوبہ بندی کے اعتبار سے یہ پاکستان کے منفرد رہائشی منصوبوں میں شامل ہے۔ اس کی خوبصورتی اور سہولیات نے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک بھی لوگوں کی توجہ حاصل کی۔
2019 میں جب ہم بحریہ ٹاؤن کراچی منتقل ہوئے تو اس وقت ملک بھر میں بحریہ ٹاؤن کراچی کے چرچے تھے۔ اگرچہ اس دور میں بحریہ ٹاؤن سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد ایک مشکل قانونی اور انتظامی صورتحال سے گزر رہا تھا اور اپنے کلائنٹس کو ان کے گھروں اور زمینوں کی فراہمی کے حوالے سے مختلف چیلنجز درپیش تھے، تاہم بحریہ ٹاؤن کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی۔ ملک ریاض کا نام پراپرٹی کے شعبے میں انتہائی نمایاں تھا، بلڈرز اور پراپرٹی ایجنٹس کا کاروبار عروج پر تھا اور بحریہ ٹاؤن میں پراپرٹی کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی تھیں۔
بحریہ ٹاؤن کی سب سے بڑی کشش اس کی منصوبہ بندی اور طرزِ زندگی تھی۔ وسیع سڑکیں، خوبصورت عمارتیں، پارکس، تجارتی مراکز، سیکیورٹی، صفائی اور بنیادی سہولیات کی دستیابی نے لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا۔ ہمارے گھر آنے والے عزیز و اقارب، دوست احباب اور ملنے جلنے والے لوگ بحریہ ٹاؤن کی صفائی، خوبصورتی اور بنیادی سہولیات کی تعریف کیے بغیر نہیں رہتے تھے۔ بجلی، پانی اور گیس کی نسبتاً بہتر دستیابی دیکھ کر بہت سے لوگ خود بھی یہاں رہائش اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔
اس وقت ملک ریاض خود بھی بحریہ ٹاؤن کراچی میں موجود رہتے اور مختلف معاملات کی نگرانی کرتے تھے۔ انتظامیہ کے فیصلوں میں تیزی اور منصوبوں پر کام کی رفتار بھی نظر آتی تھی۔ تاہم اس دور میں بھی بعض ایسے معاملات سامنے آئے جن پر رہائشیوں اور متاثرین کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے۔
مثلاً بعض پراپرٹی مالکان سے خریدی گئی پراپرٹی کی قیمت پر 35 فیصد اضافی رقم وصول کرنے کی کوشش کا معاملہ سامنے آیا، جسے رہائشیوں نے سختی سے مسترد کیا۔ اسی طرح عدالتی فیصلوں اور زمین سے متعلق مختلف معاملات کی وجہ سے کچھ لوگوں کو اپنی الاٹ شدہ زمین کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ متبادل زمین اور معاوضے کے معاملات بھی طویل عرصے تک زیر بحث رہے۔ بعض معاملات میں سیاسی اور سماجی دباؤ کے بعد پیش رفت ہوئی، لیکن تمام متاثرین کی شکایات یکساں طور پر حل نہ ہو سکیں۔
اس کے باوجود ایک عرصے تک بحریہ ٹاؤن کراچی میں تعمیرات اور پراپرٹی کا کاروبار چلتا رہا۔ نجی بلڈرز نے بھی بڑے پیمانے پر منصوبے شروع کیے۔ لوگوں نے فلیٹس، ولاز اور کمرشل پراپرٹی میں سرمایہ کاری کی اور ایک وقت ایسا آیا جب بحریہ ٹاؤن کراچی کو کراچی کے مستقبل کے جدید ترین رہائشی علاقوں میں شمار کیا جانے لگا۔
لیکن حالات نے ایک مرتبہ پھر کروٹ لی۔
ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن سے متعلق قانونی اور حکومتی معاملات نے اس پورے نظام کو شدید متاثر کیا۔ ملک ریاض اور ان کے خاندان کے حوالے سے مختلف قانونی مقدمات اور حکومتی اقدامات کی خبریں سامنے آتی رہیں۔ ان حالات کے نتیجے میں بحریہ ٹاؤن کے کاروباری معاملات، بینک اکاؤنٹس، پراپرٹی کی خرید و فروخت اور نئے منصوبوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔
یہاں ایک بنیادی بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ان قانونی معاملات کے بارے میں حتمی فیصلہ متعلقہ عدالتیں ہی کر سکتی ہیں۔ تاہم اس تمام صورتحال کا اثر بحریہ ٹاؤن کراچی کے عام رہائشی، پراپرٹی خریدار، سرمایہ کار، ملازمین اور نجی بلڈرز پر ضرور پڑا۔
ملک ریاض اور ان کی ٹیم کی عدم موجودگی کے باعث بحریہ ٹاؤن کراچی کے متعدد منصوبوں کی رفتار متاثر ہوئی۔ بحریہ ٹاؤن کے اپنے منصوبوں کے ساتھ ساتھ نجی بلڈرز کے متعدد منصوبے بھی التوا کا شکار ہوئے۔ ان منصوبوں میں سرمایہ لگانے والے لوگ پریشان ہو گئے۔ بعض نجی بلڈرز کے خلاف قانونی کارروائیوں اور مقدمات کی اطلاعات کے بعد وہ بھی اپنے منصوبوں کو مکمل کرنے میں مشکلات کا شکار ہوئے۔
اس صورتحال کا براہ راست اثر پراپرٹی کی قیمتوں پر پڑا۔ جن پلاٹس اور گھروں کی قیمتیں کبھی مسلسل بڑھ رہی تھیں، ان میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ بعض رہائشیوں اور سرمایہ کاروں کے مطابق دو کروڑ روپے کا پلاٹ ایک کروڑ کے قریب اور دو کروڑ روپے کا ولا ڈیڑھ کروڑ روپے میں بھی فروخت کرنا مشکل ہو گیا۔ تاہم قیمت کا انحصار بلاک، لوکیشن، تعمیر، دستاویزات اور مارکیٹ کی صورتحال پر مختلف ہو سکتا ہے۔
نجی منصوبوں کے خریداروں کی مشکلات اس سے بھی زیادہ سنگین ہیں۔ کئی لوگ برسوں کی جمع پونجی لگا کر فلیٹ یا گھر خریدتے ہیں۔ جب منصوبہ مکمل نہ ہو تو ان کے پاس دو ہی راستے رہ جاتے ہیں: یا تو مزید انتظار کریں یا پھر اپنی پراپرٹی نقصان برداشت کرکے فروخت کر دیں۔ بعض متاثرین نے کم قیمت پر اپنی بکنگ یا پراپرٹی فروخت کرنے کو ترجیح دی تاکہ مزید مالی نقصان سے بچ سکیں۔
بحریہ ٹاؤن کی انتظامی صورتحال بھی اس بحران سے متاثر ہوئی۔ ملازمین کی تعداد میں کمی اور اخراجات میں کمی کے اقدامات کے نتیجے میں رہائشی سہولیات اور مینٹیننس کے معیار پر اثر پڑنے کی شکایات سامنے آئیں۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں صفائی ستھرائی کے لیے جو گاڑیاں روزانہ آتی تھیں، اب بعض جگہوں پر ان کا دورانیہ بڑھ گیا ہے۔ پانی کی فراہمی میں بھی بعض اوقات ناغہ ہونے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔
وہ چھوٹی موٹی گھریلو خدمات جو پہلے فری ہوم سروس کے ذریعے دستیاب تھیں، ان میں بھی کمی یا بندش کی شکایات کی جاتی ہیں۔ اسی طرح صفائی کی مخصوص گاڑیاں، کرین اور برش والی گاڑیاں بھی پہلے کے مقابلے میں کم دکھائی دینے کی بات کی جاتی ہے۔
سب سے زیادہ تشویش سیکیورٹی کے حوالے سے ہے۔ رہائشیوں کے مطابق ماضی میں سیکیورٹی موبائلز دن رات مختلف علاقوں میں گشت کرتے تھے، لیکن اب ان کی موجودگی پہلے جیسی محسوس نہیں ہوتی۔ بعض رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث اسٹریٹ کرائم اور گھروں میں چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر کسی رہائشی کو شکایت ہو تو فوری کارروائی کے بجائے بعض اوقات طویل پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ شکایات اگرچہ پہلے بھی کبھی کبھار سامنے آتی تھیں، مگر رہائشیوں کے مطابق اب ان کی نوعیت اور تسلسل زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ دوسری طرف مینٹیننس چارجز اور بجلی، پانی، گیس سمیت مختلف سہولیات کے اخراجات میں مسلسل اضافہ رہائشیوں کے لیے ایک الگ مالی بوجھ ہے۔
اس کے باوجود ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ کراچی کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں بحریہ ٹاؤن میں بنیادی سہولیات اب بھی نسبتاً بہتر دستیاب ہیں۔ کراچی کے کئی علاقوں میں لوگ بجلی، پانی اور گیس کی شدید قلت کا سامنا کرتے ہیں۔ بعض علاقوں میں بھاری بل ادا کرنے کے باوجود سہولیات مستقل دستیاب نہیں ہوتیں۔ بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہاں سہولیات مہنگی ضرور ہیں، لیکن کم از کم دستیاب تو ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مشکلات کے باوجود بہت سے لوگ بحریہ ٹاؤن چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ شہر کے دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے کی صورت میں شاید انہیں اس معیار کی سڑکیں، منصوبہ بندی، نسبتاً منظم ماحول اور بنیادی سہولیات نہ مل سکیں۔
آج بحریہ ٹاؤن کراچی کا وہ چہرہ جو چند سال پہلے نظر آتا تھا، یقیناً ماند پڑا محسوس ہوتا ہے۔ پراپرٹی کی خرید و فروخت سست ہے، سرمایہ کار محتاط ہیں، قیمتیں کم ہوئی ہیں اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔ ملک ریاض اور ان کے خاندان کے بیرونِ ملک قیام نے بھی رہائشیوں اور سرمایہ کاروں کے ذہنوں میں سوالات پیدا کیے ہیں کہ آنے والے دنوں میں بحریہ ٹاؤن کا انتظام، منصوبے اور سرمایہ کاری کس سمت جائیں گے۔
بحریہ ٹاؤن کراچی صرف اینٹوں، سیمنٹ، سڑکوں اور عمارتوں کا نام نہیں۔ یہاں ہزاروں خاندان رہتے ہیں، ہزاروں لوگوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگائی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ روزگار سے وابستہ ہیں۔ اس لیے اس منصوبے کے مستقبل کا معاملہ صرف ایک کاروباری ادارے کا معاملہ نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔
حکومت، بحریہ ٹاؤن انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ قانونی اور سیاسی معاملات اپنی جگہ، لیکن عام رہائشیوں، ملازمین، سرمایہ کاروں اور متاثرین کے حقوق کو متاثر نہ ہونے دیا جائے۔ جو منصوبے مکمل ہو سکتے ہیں، انہیں مکمل کرانے کے لیے واضح پالیسی بنائی جائے۔ نجی بلڈرز کے متاثرین کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔
بحریہ ٹاؤن جیسے جدید اور منصوبہ بند شہر پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی بننے چاہئیں۔ پاکستان کو ایسے مزید دس، بیس بلکہ اس سے زیادہ جدید رہائشی شہر درکار ہیں، جہاں لوگوں کو صاف ماحول، بہتر سڑکیں، پارکس، سیکیورٹی، پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات ایک منظم نظام کے تحت مل سکیں۔
اگر کسی شخص یا ادارے پر جرم ثابت ہو تو قانون کے مطابق سزا ضرور ہونی چاہیے، لیکن ایسی سزا اور پالیسی بھی ہونی چاہیے جس سے ملک اور عوام کا فائدہ ہو۔ اگر کسی بڑے ڈویلپر کی صلاحیت سے ملک کے لیے مزید جدید شہر بنائے جا سکتے ہوں تو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس صلاحیت کو عوامی مفاد میں استعمال کرنا زیادہ مثبت سوچ ہوگی۔
بحریہ ٹاؤن کراچی کی موجودہ صورتحال ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ کسی بھی بڑے منصوبے کو صرف ایک فرد یا خاندان کے گرد نہیں گھومنا چاہیے۔ مضبوط ادارہ جاتی نظام، شفاف انتظامیہ، واضح قانونی حیثیت اور عوام کے حقوق کا تحفظ ہی کسی بھی بڑے منصوبے کو طویل مدت تک کامیاب بنا سکتا ہے۔
بحریہ ٹاؤن کراچی نے ایک وقت میں یہ خواب دکھایا تھا کہ پاکستان میں بھی جدید، خوبصورت اور منظم شہر بن سکتے ہیں۔ یہ خواب ختم نہیں ہونا چاہیے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ سیاست، قانونی تنازعات اور کاروباری اختلافات سے بالاتر ہو کر عام شہری کے مفاد کو مرکز بنایا جائے۔
افسوس صرف یہ ہے کہ ایک ایسا منصوبہ جسے پاکستان کے دوسرے شہروں کے لیے مثال بننا چاہیے تھا، وہ بھی سیاست، قانونی تنازعات اور انتظامی بحران کی زد میں آ گیا۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے مستقبل کے بارے میں واضح، شفاف اور قابلِ عمل پالیسی سامنے آئے تاکہ یہاں رہنے والے ہزاروں خاندان، سرمایہ کار اور متاثرین غیر یقینی کی کیفیت سے باہر نکل سکیں اور بحریہ ٹاؤن کراچی دوبارہ اس معیار کی طرف واپس آ سکے جس کی وجہ سے کبھی اسے ’’اسٹیٹ آف دی آرٹ‘‘ کہا جاتا تھا۔(شاہد غزالی)۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں