لاہور پریس کلب میں پروگریسیو گروپ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ممبر گورننگ باڈی لاہور پریس کلب سید بدر سعید نے صحافتی قیادت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی اصول یا قانون کے درست یا غلط ہونے پر مکالمہ ہو سکتا ہے لیکن ایک ہی اصول یا قانون پر "پک اینڈ چوز" نہیں ہو سکتا۔ کارکن صحافی کاشف بھٹی ڈپٹی چیف رپورٹر اور چیف رپورٹر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ وہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں کام کر چکے ہیں ۔ اب اگر ان کی ممبر شپ اس لیے کینسل ہوئی ہے کہ وہ آج کل ٹی وی ٹوڈے میں ہیں اور ٹی وی ٹوڈے پریس کلب کے کرائیٹیریا پر پورا نہیں اترتا تو اس ادارے میں ان سے سینئر پوسٹ پر سابق سیکرٹری عبد المجید ساجد کام کر رہے ہیں اس لیے ان کی ممبر شپ بھی کینسل کردیں ۔ ندیم عباس سٹی 42, 24 نیوز میں کام کرتے ہیں ۔اگر یہ ادارہ کلب کے لیے قابل قبول نہیں ہے تو پھر اس ادارے میں سینئر پوسٹ پر تعینات نوید چودھری کی ممبر شپ بھی کینسل کر دیں ۔ مجھے نہیں علم کہ موسٹ سینئر صحافیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے یا کارکنوں سے محبت کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے گروپ کی قیادت سے ہی نہیں بلکہ پوری صحافتی قیادت سے پوچھ رہا ہوں ۔ میرے کارکن ساتھیوں کے ہاتھ سے قلم چھین کر انہیں بائیکا کی چابی تھمائی جا رہی ہے لیکن کہیں کوئی آواز نہیں اٹھ رہی ۔ ایسا کیوں ہے؟ آج نیوز میں چارماہ سے تنخواہ نہیں دی گئی اور پھر اچانک کارکنوں کو گھر بھیج دیا گیا ۔ کئی اور میڈیا ہاؤسز میں بھی چار چار ماہ سے سیلری نہیں دی گئی ۔ صرف 2026 کا ریکارڈ اٹھا لیں ، ہر ماہ بڑی تعداد میں کارکن صحافی بے روزگارہورہے ہیں لیکن سب خاموش ہیں ۔ میں ان کی بات نہیں کر رہا جنہیں ایک سال کی بےروزگاری سے بھی فرق نہیں پڑتا۔ میں اپنے ان ساتھیوں کی بات کر رہا ہوں جن کے پاس اگلے مہینے کے راشن کے پیسے تک نہیں ہوتے ۔ صحافی کارکن بائیکیا چلا رہے ہیں لیکن کسی کو شرم تک نہیں آئی ۔ کوئی لائحہ عمل نہیں ہے ،کوئی فکر مندی نہیں ہے ۔ ہم ایک ایک کر کے مر رہے ہیں ، ہمارے بچوں کے منہ سے نوالہ چھینا جا رہا ہے اور پوری صحافتی قیادت خاموش ہے ۔ ہم اس پریس ریلیز کا کیا کریں جسے کوئی پڑھتا تک نہیں ؟ مجھے کہا جاتا ہے کہ پریس کلب ہمارا گھر ہے .کیا گھر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے بچوں کے منہ سے نوالہ تک چھین لیا جائے اور گھر کے بڑوں کو فرق تک نہ پڑے ؟ کیا خاندان ایسا ہوتا ہے کہ ایک بندہ اپنی بائیک پر خبر کی تلاش میں جانے کی بجائےسواری تلاش کر رہا ہو اور سب اطمینان سے بیٹھے رہیں؟ مجھے بتائیں اس وقت ہم گھر اور خاندان کی کونسی تعریف پر پورا اتر رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا میں اپنے فیز ٹو کے ان دوستوں سے پوچھتا ہوں جو کہتے ہیں کہ وہ فیز ٹو پر پہرہ دے رہے ہیں ،جو کہتے ہیں ہم فیز ٹو کے چوکیدار ہیں ۔ اسکروٹنی لسٹ میں ڈیرھ سو کے لگ بھگ ایسے ساتھی ہیں جو فیز ٹو کی ڈاؤن پیمنٹ 62500 جمع کروا چکے تھے ۔ اسکروٹنی کے ساتھ ہی ان سے پلاٹ کا حق بھی چھین لیا گیا ہے ۔ ان کے جمع کروائے گئے پیسوں کا کیا ہو گا ؟ ہمارے کاز پر پہرہ دینے والوں نے ایسا کیا کھا لیا تھا کہ وہ سو رہے ہیں ؟ کسی ایک نے ان کے پلاٹوں کے تحفظ پر سوال نہیں کیا ۔ کسی نے سوال تک نہیں کیا کہ ان کے جمع کروائے گئے پیسوں کا کیا بنے گا ؟ ہم سمجھ رہے تھے ڈاؤن پیمنٹ کے بعد حق محفوظ ہو جاتا ہے ، کیا ان کا پلاٹ کا حق محفوظ ہے یا نہیں ؟ کیا اس کے بعد بائیو میٹرک والوں کا یہ حق محفوظ ہو گا یا نہیں ؟ اس ہفتے آج ٹی وی کے کارکن بےروزگار ہو گئے ہیں ۔ کیا 6 ماہ بعد ان سے بھی اسی طرح پلاٹ کا حق چھن جائے گا ؟ حالات یہی رہے تو کیا اگلے سال مزید لوگ اسی اصول کے تحت اپنے پلاٹ کا حق کھو بیٹھیں گے ؟پھر دو سال بعد اس کلب میں کون ہو گا ؟؟ ہمارے چوکیدار اور پہرہ دینے والے اس پر خاموش کیوں ہیں ۔ کم از کم کلیئر تو ہونا چاہیے کہ بے روزگار ہونے والوں اور سکروٹنی میں آنے والوں کے بچوں کی چھت کا کیا ہو گا ؟ انہوں نے مزید کہا کہ پلاٹوں کی سیاست نے صحافیوں کے کئی مسائل دبا دیے ہیں ۔ پلاٹ کی قسط 15 ہزار بتائی جا رہی ہے ۔ میں طاقتوروں کی بات نہیں کر رہا لیکن کونسا کارکن ہے جو ان حالات میں سات سال تک ہر ماہ پندرہ ہزار کی قسط جمع کروا سکتا ہے ؟ اس پر بات کیوں نہیں کی جاتی کہ ان اضافی پندرہ ہزار کے لیے روزگار میں اضافہ کیسے ہو ؟ ہمارے پاس گھر چلانے کے لیے متبادل سورسز کیا ہوں ؟ جدید میڈیا کے لیے ہماری کپیسٹی بلڈنگ اور ٹریننگ کا اہتمام کون کرے گا ؟ کارکنوں کے حالات بہتر کیسے ہوں ؟ یہ کس نے سوچنا ہے ؟ لیڈر شپ کسے کہتے ہیں ؟ گھر کے بڑوں کا کیا فرض ہوتا ہے ۔ ہم ہی نہ رہے تو آپ سیاست کس پر کریں گے ؟
اس موقع پر چیئرمین پروگریسیو گروپ اور سابق صدر پریس کلب معین اظہر نے کہا کہ سید بدر سعید نے جو سوال کیے ہیں وہ اہم ہیں ۔ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری خود کو ایک فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے عہدے دار بھی بتاتے ہیں لیکن بڑی تعداد میں صحافیوں کے بےروزگار ہونے پر بھی انہوں نے نہ کوئی احتجاجی کیمپ لگایا اور نہ ہی کسی ادارے کے باہر احتجاج کیا ۔انہیں اداروں کے باہر احتجاج کے لیے نکلنا چاہیے ۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اطلاعات نے فروری میں فیز ٹو کے الاٹمنٹ لیٹر دینے کا کہا تھا جو ابھی تک نہیں دیے گئے ۔ ہمارا صدر اور سیکرٹری سے مطالبہ ہے کہ اکتوبر میں یہ لیٹر فیز ٹو کے حقداروں کے حوالے کیے جائیں ۔ آپ اپنے وعدے پورے کریں ۔
60