کراچی پریس کلب انتظامیہ نے کلب میں داخلے اور نظم و ضبط کے لیے نئے اصول و ضوابط جاری کر دیے ہیں۔ ویجلینس کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ اطلاع عام میں کہا گیا ہے کہ ان اصولوں کا مقصد کلب کے ماحول اور ممبران کی سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔اعلامیے کے مطابق تمام ممبران کے ساتھ صرف دو مہمانوں کو آنے کی اجازت ہوگی اور ہر مہمان کی گیٹ پر لازمی انٹری کی جائے گی جس کے بعد انہیں گیسٹ کارڈ جاری کیا جائے گا۔ اضافی مہمان لانے کے لیے دفتر سے پیشگی اجازت لینا ہوگی اور ممبران کے ساتھ آنے والے مہمانوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ طویل اوقات تک کلب میں بیٹھنے سے گریز کریں۔اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی ممبر کے بغیر مہمان یا نان ممبر کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے اور مرکزی بلڈنگ میں نان ممبران کا بغیر اجازت داخلہ ممنوع ہوگا۔ایسے نان صحافی ممبران جو صحافتی اداروں میں مختلف فیلڈز میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور پروگراموں کی کوریج کرتے ہیں وہ گیٹ پر انٹری کرائیں گے اور مسجد لان تک محدود رہیں گے۔کینٹین سروسز صرف ممبران کے لیے ہوں گی، نان ممبر یا مہمان کو صرف ممبر کے ساتھ سروس دی جائے گی، بغیر ممبر کسی بھی مہمان کو سروس فراہم نہیں کی جائے گی۔ ٹیرس، اس کی چھت اور لان میں بھی صرف ممبران کے ساتھ آنے والے مہمانوں کو بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔اعلامیے کے مطابق ابراہیم جلیس ہال صرف ممبران کے لیے مختص ہے اور وہاں کسی کو سونے کی اجازت نہیں، جبکہ فیملی ہال صرف ممبران اور ان کے اہلخانہ کے لیے ہے، فیملی کے بغیر کسی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔مزید بتایا گیا ہے کہ کراچی پریس کلب کے کسی بھی مقام پر نان ممبر یا مہمان کو فوٹوگرافی یا ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں ہوگی اور پارکنگ میں صرف اسٹیکرز والی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو داخلے کی اجازت ہوگی۔ویجلینس کمیٹی نے تمام ممبران سے ان اصولوں پر تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی پریس کلب ہمارا گھر ہے اور گھر کی رونق بحال رکھنے کے لیے تعاون ضروری ہے، اس حوالے سے اسٹاف کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور خلاف ورزی پر انتظامیہ قوانین کے مطابق کارروائی کا اختیار رکھتی ہے۔
42
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل