خاتون صحافی کی چوری شدہ کار برآمد، ملزم گرفتار۔۔۔۔ 33

خاتون صحافی کی چوری شدہ کار برآمد، ملزم گرفتار۔۔۔۔

لاہور پریس کلب کی سابق نائب صدر صائمہ نواز کی کار پریس کلب کے مین گیٹ سے دس گز کے فاصلے پر فٹ پاتھ پر کھڑی ہیلمٹ پوش چوروں نے کسی تردد کے بغیر لمحوں میں اپنی بنا لی ۔تب صائمہ نواز نشریاتی ادارے میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں معمول کے مطابق کسی نقصان کے خوف سے ماوراء ادا کر رہی تھیں ۔اشاعتی اور نشریاتی اداروں میں خوف صرف دو باتوں کا ہوتا ہے اول یہ کہ اگلے لمحے نوکری بچی ؟ دوئم کوئی درست خبر ہر قسم کی انتظامیہ کو کتنی بری لگی اور اس کے ردِ عمل میں کیا نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے ۔
صائمہ پریس کلب کے مرکزی دروازے پر معمول کے مطابق گاڑی کرکے کے گئیں اور ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ساتھی رپورٹروں نے انہیں واپس پریس کلب ڈراپ کر دیا ، مین گیٹ پر اتر کر وہ گاڑی کی جانب بڑھیں تو مقررہ مقام پر گاڑی نہیں تھی ، پریشانی اور لاچاری تھی۔ ظاہر ہے کیا ہونا تھا ، پولیس کو کال کی گئی ،پولیس نے روایتی کام کیا، یہ روایتی کام مایوسی برھا رہا تھا لیکن یہ مایوسی تب تک تھی، جب تک گاڑی چوری ہونے کی اطلاع صحافتی برادری تک نہیں پہنچی تھی ۔
پریس کلب کے باہر گاڑی کی چوری کے وقت تین افراد ڈیوٹی پر تھے، وہ مغرب سے مشرق رخ باہم قومی اور بین الاقوامی مسائل نمٹانے اور فون پر فون ہی کو شکست دینے کے مقابلے میں مصروف تھے ، یہ سب کار چور یقینی طورپر پہلے ابزرو کر چکے تھے اور عین ممکن ہے کہ پریس کلب کے اندر کا راﺅنڈ بھی کسی وقت لگا چکے ہوں ، وہ ایک موٹر سائیکل پر ہیلمٹ کے ساتھ بڑے اطمینان کے ساتھ گاڑی کے پاس آکر کھڑے ہوئے، ایک نیچے اترا دوسرا کھڑا رہا۔ نیچے اترنے والے نے لمحوں میں ایسے دروازہ کھولا شاید گاڑی کی مالک بھی اتنی جلدی چابی نہیں گھما سکتی ہو گی ، عام طور پر جتنی دیر میں دروازہ کھول کے اندر بیتھنے کی کوشش کی جاتی ہے اس سے بھی کم وقت میں یہ کار سڑک پر فراٹے بھر چکی تھی ، اس سے پہلے موٹر سائیکل والا تھا ، یہ سارا منظر سی سی ٹی وی کیمرے کی آنکھ نے سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی فوٹیج سے دنیا بھر کو دکھایا ِ۔
صحافتی برادری نے کلب کے گیٹ سے گاڑی کی چوری پر جس تشویش اور دکھ کا اظہار کیا ، گاڑی بازیاب ہونے کیلئے جتنی دعائیں کی گئیں ، اس کی مثال بھی کم ملتی ہے ، جس جس نے بھی یہ بُری خبر سنی گاڑی ملنے کی دعا اور صائمہ نواز سے یکجہتی کا اظہار کیا اور تسلی دی کہ گاڑی ضرور مل جائے گی ، ہمدردی کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ جنگ گروپ کا لاہور میں جنگ سے زیادہ سرکولیشن والا اخبار بند ہونے کے بعد دیگر ساتھیوں کی طرح صائمہ کو بھی واجبات نہیں ملے تھے اور وہ اپنے ساتھیوں سمیت عدالتی کولہو کے گرد گھوم رہی ہے۔
جب تک گاڑی کی تلاش شروع کی گئی تب تک گاڑی لکشمی چوک ، جی پی او چوک سے ہوتی ہوئی جیٹی روڈ کے راستے لاہور کی حدود سے پار جاچکی تھی ۔ اب گاڑی کی تلاش کی سنجیدہ کوششیں ایسی شروع ہوئیں جیسے پولیس اور اس کے مختلف شعبوں کا فائنل امتحان ہو ۔ اس امتحان میں چوبیس گھنتوں سے پہلے سرخروئی نصیب ہوئی ، گاڑی بھی برآمد کر لی گئی اور ایک ملزم بھی گرفتار ہو گیا جب کہ دوسرا ابھی سرکاری ریکارڈ کے مطابق مفرور ہے ۔
ممکن ہے کہ یہ سطور لکھے جانے کے دوران وہ بھی پکڑا گیا ہو کیونکہ اب زیادہ دیر تک بھاگے رہنے کا امکان کم ہے ، پولیس متحرک ہو کر جو کام کرتی ہے اس کا اندازہ ، خبر اور ادراک پولیس افسروں سے زیادہ جرائم پیشہ افراد کو ہوتا ہے ، اس کیس میں یہ بات واضح ہو چکی ہے لہٰذا گرفتاری میں تاخیر کا امکان کم ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اتنی جلدی تو گاڑی برآمد ہوتی ہے نہ ملزم پکڑے جاتے ہیں تو یہ عجوبہ کیسے ہوا ؟ جی ہاں ! یہ سارا کام پولیس نے ہی کیا ، کسی پیر کے تعویز نے نہیں کیا ، نہ کار چور ٹرائل دے رہے تھے ، یہ کارنامہ پولیس کی پُر خلوص محنت اور فرض شناسی کی بدولت انجام پایا ۔ جس کا سہرا سیف سٹی اتھارٹی کے سر ہے ۔ گاڑی کی چوری کی اطلاع ملتے ہی جب ساتھی رپورٹرز اور احباب متحرک ہوئے تو پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ٹیلی اور موبائل فونوں کی گھنٹیاں مسلسل بجتی رہیں ۔
رپورٹر ، پولیس افسر ، اہلکار ، کمپیوٹر سب کی بیک وقت ٹن ٹن ہو رہی تھی اور سیف سٹیز اتھارٹی کے کیمرے سانپ کے پیچھے نیولے کی طرح تعاقب کر رہے تھے ۔ اس وقت کار مریدکے میں کھڑی تھی جب موٹر سائیکل سوار چور موٹر سائیکل سمیت دبوچا جا چکا تھا، اسے کیمروں نے شناخت کیا ۔ تعاقب کیا اور پولیس نے دبوچا ، اگلی کارروائی تک کار پھر جی ٹی روڈ پر موو کر رہی تھی، جب اس کا تعاقب کیا گیا اور اسے روکا گیا تو اس وقت اس چور کو بھاگنے کیلئے کچھ مہلت مل گئی ۔
روایتی طور پر چور دوڑ میں پولیس سے جیت جاتے ہیں ، ممکن ہے یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہو۔۔ ابتدائی طور پر چوروں کی شناخت تفتیشی مراحل کی وجہ سے ظاہر نہیں کی جا رہی لیکن یہ بتانا ضروری ہے کہ پکڑا جانے والا چور ٹیکسلا کا رہنے والا اور اس نے بھی ٹیکسلا ہی کی طرف یا اگلی کسی منزل کی طرف روانہ ہونا تھا ۔
پریس کلب سے کار کی چوری ، کار کی برآمدگی اور ایک ملزم کی گرفتاری نے صحافیوں ، پولیس اور پولیس سسٹم پر متعدد سوال اٹھائے ہیں ، ایک سوال کا جواب صائمہ نواز نے یوں دیا ہے ” سی سی ڈی کی کارروائیوں کے بعد بلا شبہ جرائم پیشہ افراد میں خوف پھیلا تھا اور وارداتوں میں کمی دکھائی دی تھی ، اس لئے بلا خوف پریس کلب کے ساتھ گاڑی کر کے چلی جاتی تھی، یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔
خاص طور پر جبکہ تین تین افراد گیٹ پر موجود ہوں ، اب پھر سے واداتیں بڑھ رہی ہیں“ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جس جگہ سے یہ کار چوری ہوئی ، چند سال پہلے میری سرخ ہونڈا سیونٹی (ایس اے بی آٹھ سو اڑتیس) بھی ایسے ہی چور ہوئی تھی ، میں نے اس کی فوٹیج سوشل میڈیا پر شیئر کی ، پولیس نے روایتی ون فائیو کال والی کارروائی کی ، اسی شب علاقے کے ڈی ایس پی کے ساتھ گپیں ہانکتے موٹر سائیکل کی چوری کا غم غلط کرتے رہے اور پھر اس جانے والی کا رنگ ، نمبر اور اوصاف ہی یاد رکھے ۔
دوسرا سوال پولیس کے نظام کا ہے کہ جب ایک ایک چوک میں چالان کرنے والوں کے جھنڈ کھڑے ہیں ، صرف چالان کرنے پر ڈیوٹی ہے ، ان میں سے کسی کو واردات میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل کے نمبر کا مٹایا جانے والا ہندسہ نظر نہیں آیا ؟ کار جی ٹی روڈ پر چڑھنے سے پہلے راوی دریا پار کرنے سے لیکر آخری مقام تک کسی ٹول سے نہیں گذری؟ کسی کمپیوٹر نے ٹوکن جاری کرتے وقت اس کی نشاندہی نہیں کی اور نہ ہی کیمرے نے نہیں دیکھا کہ یہ وہی کار ہے جس کی چوری کی کال چلی ہوئی ہے ؟
اس کا ایک جواب تو یہ بنتا ہے کہ جدید نظام میں صرف چالانوں پر توجہ ہے ، ادھر چالان ہوا ، ادھر ریکارڈ مرتب ، ایسا نظام وضع نہیں کیا گیا کہ جیسی ہی بائیک یا گاڑی کی چوری کی کال چلتے تو اس کا ریکارڈ بھی سسٹم کے ہر کمپیوٹر میں خود کار نظام سے فیڈ ہو جائے ۔ نہ اس کا پارکنگ کیلئے ٹوکن جاری ہو سکے اور نہ ہی سڑک پر چلنے کیلئے ٹول ٹیکس کا ٹوکن جاری ہو سکے ، ہر ٹوکن کمپیوٹرائز ہونے سے جہاں مسروقہ بائک اور گاڑی کو دوسرے مقام پر منتقل ہونا مشکل ہو جائے گا ۔ وہیں پر ٹیکس کولیکشن کی بھی درست اعداد و شمار مرتب ہو سکیں گے مگر ایسا ٹھیکیدار اور چاور مافیا کیسے ہونے دے گا ؟
صائمہ نواز کو مبار ک ہو کہ جس طرح اس کے طرز زندگی اور رویہ کی وجہ سے انتخابی عمل میں اسے ساتھیوں کی شفقت اور پیار ملتا ہے ۔ ایسی ہی کار کی چوری کے وقت ہمدردی ،یکجہتی اور دعائیں ملیں ، مخلص ساتھیوں خاص طور پر آصف چودھری اور عامر مرزا کی اڑی ہوئی نیند کے نتیجے میں پولیس ڈیپارٹمنٹ اور افسروں درپیش چیلنج سے نمٹنے کے امتحان نے انہیں کار دلادی ورنہ کتنے ہیں جو اپنی بائک یا گاڑی کو صرف یاد کرتے ہیں ۔(محمد نواز طاہر)۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں