رپورٹر کی گرفتاری و رہائی، پولیس کی وضاحت۔۔مکمل کہانی ۔۔ 53

رپورٹر کی گرفتاری و رہائی، پولیس کی وضاحت۔۔مکمل کہانی ۔۔

ممتاز کرائم رپورٹر و نیشنل پریس کلب گورننگ باڈی کےمنتخب ممبر رانا عثمان کو خبر ملی کہ سینئر صحافی رانا کوثر کے گھرپر نامعلوم افراد نے دھاوا بول دیا اور معاملہ تھانہ تک پہنچ گیا ہے۔ رانا عثمان بھی یہ خبر سن کر تھانہ کراچی کمپنی پہنچ گئے۔واضح رہے کہ رانا عثمان نے صبح خبر دی تھی کہ تھانہ کراچی کمپنی پولیس کی حراست سے ایک ملزم فرار ہوگیاہے ، جس پر متعلقہ پولیس حکام ناراض تھے۔رانا عثمان نے ایس ایچ او کو کال کی کہ میں رانا کوثر کے معاملہ کیلئے تھانہ میں موجود ہوں۔اس کے تھوڑی دیر بعد تھانے میں موجود ایک سب انسپکٹر نے آواز دی کہ کرائم رپورٹر رانا عثمان کون ہے، پھر انہیں گالم گلوچ کا نشانہ بنایا گیا اور مبینہ طور پر “اسے اندر بند کر دو” کہہ کر حوالات میں ڈال دیا گیا۔بعد ازاں دیگر کرائم رپورٹرز کے احتجاج اور مداخلت کے بعد انہیں حوالات سے باہر نکالا گیا۔پی ایف یو جے صدر افضل بٹ نے واقعے کو آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی، آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی آپریشنز سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔اس حوالے سے کراچی کمپنی پولیس نے وضاحت جاری کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ۔۔صحافی رانا عثمان کی کراچی کمپنی پولیس کی جانب سے گرفتاری کے حوالے سے پولیس کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ رانا عثمان کو سوشل میڈیا پر معاملہ پوسٹ کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ پمز ہسپتال کی پارکنگ/گیراج ایریا میں پیش آنے والے مبینہ جھگڑے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔پولیس رپورٹ کے مطابق ایس آئی احسان اللہ ڈیوٹی پر موجود تھے جب رانا کوثر اور شہریار کے درمیان پمز ہسپتال کے کار پارکنگ ایریا میں جھگڑا ہوا۔ اطلاع ملنے پر دونوں فریقین کو مزید قانونی کارروائی کے لیے تھانہ کراچی کمپنی منتقل کیا گیا۔پولیس کے مطابق تھانے میں بھی دونوں فریقین کے درمیان دوبارہ تلخ کلامی، گالم گلوچ اور مبینہ جسمانی جھگڑا ہوا، جس پر صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے متعلقہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ہدایت دی گئی کہ صرف براہِ راست جھگڑے میں ملوث افراد کو حراست میں رکھا جائے جبکہ دیگر افراد کو رہا کر دیا جائے۔ اسی ہدایت کے تحت رانا عثمان سمیت دیگر افراد کو لاک اپ سے رہا کر دیا گیا اور رانا عثمان تھانے سے روانہ ہو گئے۔دوسری جانب پولیس رپورٹ میں گزشتہ روز پیش آنے والے ایک الگ واقعے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس میں اے ایس آئی فیاض الحسن مبینہ طور پر ایک نامعلوم/مشکوک شخص کو پولیس گاڑی میں تھانہ کراچی کمپنی منتقل کر رہے تھے کہ مشتبہ شخص راستے میں گاڑی سے چھلانگ لگا کر فرار ہوگیا۔پولیس کے مطابق رانا عثمان نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر واقعے کو مختلف انداز میں پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں معاملہ آن لائن پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا، تاہم پولیس کا مؤقف ہے کہ انہیں پمز میں ہونے والے جھگڑے کے تناظر میں حراست میں لیا گیا تھا اور بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔اہم سوال: معاملے کے دونوں فریقین کا مؤقف سامنے آنا اور تمام دستیاب شواہد کی بنیاد پر شفاف انداز میں حقائق واضح کرنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔دریں اثنا رپورٹر رانا عثمان نے کراچی کمپنی پولیس کی وضاحت پر کہا ہے کہ ۔۔اسلام آباد پولیس کی جانب سے صحافیوں کو بھیجا جانے والا مؤقف حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے۔ پولیس کی طرف سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ مجھے پمز کے معاملے پر گرفتار کیا گیا، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔میں نہ تو واقعے سے قبل پمز میں موجود تھا اور نہ ہی واقعے کے بعد پمز گیا۔ اسی طرح میرا تھانہ کراچی کمپنی میں موجود ہونے کا بھی کوئی تعلق پمز کے واقعے سے نہیں تھا۔ میں سینئر صحافی رانا کوثر صاحب کی کال موصول ہونے کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد ان کا حال پوچھنے کے لیے تھانہ کراچی کمپنی پہنچا۔دورانِ موجودگی، جب رانا کوثر صاحب اور ان کے بیٹے کے ساتھ مخالف فریق کی جانب سے بدتمیزی کی گئی تو میں نے ایس ایچ او ندیم صاحب کو فون کرکے بتایا کہ میں رانا عثمان کرائم رپورٹر تھانے میں موجود ہوں اور یہاں رانا کوثر صاحب اور ان کے بیٹے کے ساتھ بدتمیزی کی جا رہی ہے۔ ایس ایچ او ندیم صاحب نے جواب دیا کہ وہ اس معاملے میں کچھ کرتے ہیں، جس کے بعد کال منقطع ہوگئی۔اس کے چند ہی منٹ بعد سب انسپکٹر احسان الٰہی نے میری جانب اشارہ کرتے ہوئے طور پر کہا کہ ’’اس کو گرفتار کرو، بڑا کرائم رپورٹر ہے‘‘۔ اور بدتمیزی کی اس کے بعد میرا موبائل فون لے کر مجھے حوالات میں بند کر دیا گیا۔بعد ازاں صحافی برادری کے دوستوں کی مداخلت اور رابطوں کے بعد مجھے کچھ دیر میں رہا کر دیا گیا۔علاوہ ازیں اسلام آباد سے سینئر صحافی شکیل قرار نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اسی حوالے سے تحریر کیا ہے کہ۔۔ تھانہ کراچی کمپنی میں سب انسپکٹر کی جانب سے ملزمان کی موجودگی میں صحافتی امور کی انجام دہی کے لیے جانے والے نیو نیوز سے وابستہ سنئیر کرائم رپورٹر رانا عثمان سے نہ صرف توہین آمیز رویہ روا رکھا گیا بلکہ ملزمان کی ایما پر انہیں حوالات میں بھی بند کیا گیا، اور جب آر آئی یو جے دستور کے صدر رانا کوثر تھانے گے تو ان سے بھی پولیس نے ہتک امیز رویہ رکھا جو ناقابل برداشت ہے اسلام آباد کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے معاملے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے نئے تعینات ہونے والے ڈی آئی جی آپریشنز علی وسیم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ معاملے کی غیر جانبدارانہ انداز میں تحقیقات کروائیں اور سینئر صحافی سے ہتک آمیز رویہ اختیار کرنے پر متعلقہ سب انسپکٹر کو معطل کیا جائے، صدر اکراء قمر المنور کی جانب سے آئی جی اسلام آباد پر زور دیا گیا ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں صحافیوں کو صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے میں سازگار ماحول فراہم کریں، سیکرٹری ذوالقرنین حیدر کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں، واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے گزشتہ روز اسلام آباد کو دنیا کے بڑے وفاقی دارالحکومت شہروں سے بھی زیادہ محفوظ قرار دیا گیا تھا تاہم شہر میں آئے روز چوری ڈکیتی، قتل و غارت کے واقعات کچھ اور ہی صورتحال پیش کرتے نظر آتے ہیں، اسلام آباد کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی پولیس کیپیٹل پیٹرول جیسے منصوبوں، تھانوں کی تزئین و آرائش اور افسران کو غیر ملکی تربیتی پروگرامز میں عوامی ٹیکس کے کروڑوں روپے لگانے کی بجائے تھانوں اور ناکوں پر تعینات اہلکاروں و افسران کی تربیت و اخلاقیات پر زور دیں تاکہ اہلکار طاقت کے بے دریغ استعمال کی بجائے خوش اسلوبی سے عوامی مسائل کو حل کرنے کی راہ پر چل سکیں۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں