اسلام آباد کی ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کی جانب سے دس روزہ جسمانی ریمانڈ کے بجائے صحافی بلال غوری کا تین دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے۔ سوموار کو پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والے صحافی بلال غوری کو جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت میں پیش کیا گیا تو این سی سی آئی اے کی جانب سے کہا گیا کہ انھیں ملزم سے یوٹیوب اور ایکس اکاؤنٹ کی ریکوری کرنی ہے۔بلال غوری کو اسلام آباد میں شب نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے گرفتار کرتے ہوئے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں نیکٹا میں آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر کی تعیناتی کے حوالے سے ایک گمراہ کن ویڈیو کا ایف آئی آر میں حوالہ دیا گیا تھا۔اس حوالے سے عدالت میں وکیل حنظلہ حبیب نے کہا کہ ’پانچ ستمبر کو وی لاگ اپ لوڈ ہوا تاہم کوئی نوٹس دیے بنا ہی ان کے موکل کو گرفتار کر لیا گیا۔بلال غوری کے وکیل عمران شفیق نے کہا کہ ’وی لاگ میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے کہ جو غلط ہو۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’این سی سی آئی اے بتا دے کہ جھوٹی معلومات بلال غوری کے ویلاگ میں کہاں ہیں۔ صرف یہ بات بری لگ گئی کہ ان کی مزید ترقی ممکن نظر نہیں آتی؟ یہ کونسا جھوٹ ہے؟اس موقع پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے سوال کیا کہ اس طرح کے الفاظ آپ کو مناسب لگتے ہیں تو بلال غوری نے جواب دیا کہ وہ ادارے کی کارکردگی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ ’میں فیصل نصیر کے خلاف نہیں نیکٹا کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔ اس پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا کہ ’آخر میں کیا کہا ہے آپ نے؟‘ بلال غوری نے جواب دیا کہ ’میں نے یہی کہا کہ جو فیلڈ مارشل کہیں گے وہ وہی کریں گے۔‘ جج نے ریمارکس دیے کہ ’کیا آپ کل میرے حوالے سے بھی یہ کہیں گے کہ جو سیشن جج کہے گا وہ کریں گے۔بلال غوری نے جواب دیا کہ ’عدلیہ تو آزاد ہے لیکن وہاں تو چین آف کمانڈ ہے۔بعدازاں عدالت نے صحافی بلال غوری کا تین دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
29
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل