میڈیا انڈسٹری میں ٹینڈر سسٹم جڑیں پکڑنے لگا۔۔۔ 

ملک کے سب سے بڑے میڈیا حب میں ایک خطرناک اور تشویشناک رجحان تیزی سے سر اٹھا رہا ہے جہاں صحافت کے نام پر “ٹینڈر سسٹم” جڑیں مضبوط کر چکا ہے اور اس کے اثرات نہ صرف پیشہ ور صحافیوں بلکہ پورے میڈیا کے وقار اور ساکھ پر پڑ رہے ہیں۔پنجاب کے بعد اب کراچی میں بھی بعض نجی ٹی وی چینلز میں نمائندگی حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ مالی لین دین کا سلسلہ جاری ہےجسے “ٹینڈر سسٹم” کا نام دیا گیا ہے اس نظام کے تحت بیورو چیف اور چیف کرائم رپورٹر جیسے اہم عہدے  ہفتہ وار یا ماہانہ بنیادوں پر رقم کی ادائیگی کے ذریعے حاصل کیے جاتے ہیں اور بعض معاملات میں براہِ راست چینل مالکان سے یہ ڈیل طے پاتی ہے۔خلاف قانون اس طریقہ کار نے پیشہ ور اور تربیت یافتہ صحافیوں کے لیے میدان تنگ کر دیا ہے اور ایسے افراد کو آگے لایا جا رہا ہے جن کا صحافت سے نہ تو عملی تعلق ہے اور نہ ہی پیشہ ورانہ تربیت نتیجتاً صحافت کا معیار متاثر ہو رہا ہے۔۔ مستند ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ کراچی میں بعض گروہ باقاعدہ طور پر ان “ٹینڈرز” میں بولی لگاتے ہیں جہاں سب سے زیادہ رقم دینے والا مخصوص بیٹ یا شعبہ حاصل کر لیتا ہے کرائم، بلدیات اور دیگر اہم بیٹس الگ الگ بنیادوں پر تقسیم کیے جاتے ہیں۔۔  ٹینڈر حاصل کرنے کے بعد متعلقہ فرد اپنی ٹیم خود تشکیل دیتا ہے۔بغیر کسی باقاعدہ تنخواہ کے اور کیمرہ، گاڑی اور دیگر اخراجات بھی اسی کے ذمے ہوتے ہیں اور پھر یہ  عناصر صحافت کے نام پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔۔  تھانوں سے ہفتہ وصولی، جوئے اور منشیات کے اڈوں، گٹکا و ماوا فروخت کرنے والوں،کنسٹرکشن، غیرقانونی پورشن، عطائی ڈاکٹروں اور ملاوٹ شدہ اشیاء کے کاروبار سے وابستہ افراد کو ہدف بنایا جاتا ہے اور چینل کے نام کا استعمال کرتے ہوئے بلیک میلنگ کرکے رقوم حاصل کی جاتی ہیں اس نیٹ ورکس میں خواتین کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔اطلاعات ہیں کہ کراچی سے آپریٹ ہونے والے چند چینلز میں یہ رجحان زیادہ واضح ہے جبکہ ایک ویب ٹی وی پلیٹ فارم جسے صوبائی سیاست کی ایک نمایاں شخصیت سے جوڑا جاتا ہے میں بھی ایسے طریقہ کار کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اسی طرح دنیائے صحافت کے ایک معتبر نام سے وابستہ قریبی رشتہ دار کے بارے میں بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس نے “ٹینڈر سسٹم” کے تحت اہم عہدہ حاصل کیا۔  اگر اس طرزِ عمل کی فوری اور مؤثر روک تھام نہ کی گئی تو یہ رجحان پورے شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے اور صحافت، جو عوامی اعتماد، سچائی اور جوابدہی کی بنیاد پر کھڑی ہے مزید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔صحافتی تنظیمیں، ریگولیٹری ادارے اور متعلقہ حکام اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں شفاف تحقیقات کرائیں اور ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں تاکہ صحافت جیسے باوقار پیشے کی ساکھ اور اعتماد کو بحال رکھا جا سکے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں