عیدِ قربان سے قبل آج ٹی وی کے ملازمین کی قربانیاں شروع— شدید مالی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں، جہاں گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی معطل ہے جبکہ مسلسل ڈاؤن سائزنگ کے باعث ہر ہفتے مختلف شعبوں سے ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے۔ پپو کاکہنا ہے کہ چینل میں گزشتہ پانچ ماہ سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور ملازمین ہر روز اس خوف کے ساتھ کام پر آتے ہیں کہ کہیں آج ان کی نوکری ختم نہ کر دی جائے۔ بعض ملازمین اس قدر پریشان ہیں کہ سوتے وقت بھی فون اپنے پاس رکھتے ہیں تاکہ کہیں ہیومن ریسورس کی کال آ جائے تو فوراً جواب دے سکیں۔ اطلاعات کے مطابق اینکرز، ڈیسک اسٹاف، پروڈیوسرز اور ٹیکنیکل ٹیم کے ساتھ ساتھ کیمرہ مین، سیٹ ڈیزائنرز، آڈیو اسٹاف، ڈرائیورز اور ایم سی آر کے عملے کو بھی فارغ کیا جا چکا ہے۔ یہاں تک کہ 20 سال سے زائد عرصے سے خدمات انجام دینے والے سینئر ملازمین کو بھی نکال دیا گیا ہے، جن کی تنخواہیں تقریباً 40 ہزار روپے تھیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ زیادہ تنخواہ لینے والے افراد کسی حد تک خاموشی سے گزارا کر رہے ہیں، مگر کم تنخواہ والے ملازمین کے لیے حالات ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں اور ان کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ پپو کے مطابق طبی سہولیات گزشتہ سات ماہ سے بند ہیں، جبکہ میڈیکل کے نام پر کٹوتیاں بدستور جاری ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ بیمار ہونے کی صورت میں علاج کے لیے کوئی رقم دی جاتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، بلکہ ہر ماہ تنخواہ سے کٹوتیاں ضرور کی جاتی ہیں۔ پپو کاکہنا ہے کہ آج ٹی وی میں صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ بعض ملازمین متبادل روزگار تلاش کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، حتیٰ کہ ایک سوئپر نے بینک میں ملازمت اختیار کر لی جہاں اسے باقاعدہ 45 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ مل رہی ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ ادارے میں اس وقت بے حسی کا عالم ہے اور کسی کو بھی ملازمین کے مسائل یا مشکلات کی کوئی پرواہ نہیں۔ ملازمین نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ اگر چینل کو مالی مشکلات کا سامنا ہے تو اس کی بنیادی وجہ کمرشلز کی کمی ہے، جو کہ مارکیٹنگ اور سیلز ڈیپارٹمنٹ کا مسئلہ ہے، جہاں پہلے ہی زیادہ تنخواہوں پر افراد تعینات ہیں۔ ایسے میں 40 ہزار سے 100 ہزار روپے تک تنخواہ لینے والے ملازمین کو نکال کر کس حد تک اخراجات میں کمی لائی جا سکتی ہے، یہ ایک اہم سوال بن چکا ہے۔متاثرہ ملازمین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور اس بحران کا کوئی مؤثر حل نکالا جا سکے۔۔
عید قرباں سے پہلے آج ٹی وی میں ملازمین کی قربانیاں۔۔۔
Facebook Comments
