صحافیوں کے لیے ہیلتھ اسکیم کا محدود استعمال، قومی اسمبلی میں انکشاف

 حکومت کی جانب سے صحافیوں کے لیے متعارف کرائی گئی ہیلتھ انشورنس اسکیم کا استعمال نہایت محدود رہا ہے، جہاں ہزاروں رجسٹرڈ افراد میں سے صرف ایک چھوٹی تعداد ہی اس سے فائدہ اٹھا سکی ہے۔ یہ بات قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار میں سامنے آئی ہے۔وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ وزیراعظم ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 4,537 صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا اندراج کیا گیا، تاہم اب تک صرف 187 افراد نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا ہے۔یہ اعداد و شمار رکن قومی اسمبلی سمیعہ خالد گھرکی کے سوال کے جواب میں پیش کیے گئے، جنہوں نے اسکیم کے تحت ہیلتھ، لائف اور حادثاتی انشورنس سے مستفید ہونے والے افراد، اہلیت کے معیار اور مستقبل کے فلاحی منصوبوں کی تفصیلات طلب کی تھیں۔وزیرِ اطلاعات کے مطابق حکومت اس پروگرام کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے تحت مزید 10,000 تصدیق شدہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو شامل کیا جائے گا، حالانکہ موجودہ سطح پر اس کا استعمال کم رہا ہے۔اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے درخواست دہندگان کے پاس درست شناختی کارڈاور پیشہ ورانہ وابستگی کا ثبوت ہونا ضروری ہے۔ اس میں انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ایکریڈیشن کارڈ، درست ملازمتی کارڈ یا حالیہ تقرری نامہ، یا کسی تسلیم شدہ پریس کلب یا میڈیا ادارے کی رکنیت شامل ہے۔اس پروگرام کے تحت مستحق افراد کو بڑے طبی اخراجات کے لیے سہولت فراہم کی جاتی ہے، جن میں گردوں کی پیوند کاری کے مکمل اخراجات، کینسر کے علاج کے لیے مقررہ مراکز پر 3 لاکھ روپے تک، اور جان لیوا بیماریوں کے لیے 3 لاکھ 50 ہزار روپے تک کوریج شامل ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں