تحقیقاتی صحافی نادر خان کو کراچی کی ایک عدالت نے عبوری ضمانت دے دی ہے جس کے بعد پیکا قانون پر پھر سوالات کھڑے ہوگئے، یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب چند روز قبل کراچی پورٹ پر ایک کارگو جہاز کے ذریعے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی مبینہ اسمگلنگ سے متعلق رپورٹ شائع کرنے کے فوراً بعد ان کے خلاف تیزی سے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی تھی۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر افضل بٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ صحافی کے خلاف قانونی کارروائی غیر معمولی سرعت سے کی گئی۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے 20 مارچ 2026 کے بیان کے مطابق، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے نادر خان کی رپورٹ شائع ہونے کے محض 30 منٹ کے اندر ایف آئی آر درج کر لی۔ رپورٹ شام تقریباً 5:30 بجے شائع ہوئی جبکہ شکایت 6:00 بجے تک درج ہو چکی تھی، جس نے صحافتی حلقوں اور میڈیا حقوق کی تنظیموں میں سوالات کو جنم دیا ہے۔ایچ آر سی پی نے اس اقدام کو آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی فوری قانونی کارروائی حساس موضوعات، جیسے مبینہ اسمگلنگ اور بدعنوانی، پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔کراچی کے صحافیوں اور پریس کلب نے نادر خان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔ میڈیا کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اس وسیع رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت تحقیقاتی صحافیوں، خصوصاً معاشی جرائم اور بااثر شخصیات سے متعلق رپورٹنگ کرنے والوں پر قانونی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ناقدین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ پیکا قوانین کا استعمال ماضی میں بھی صحافیوں اور ڈیجیٹل رپورٹنگ سے متعلق کیسز میں کیا جاتا رہا ہے، جس سے عوامی مفاد کی صحافت پر اس کے اطلاق کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
