حکومت نے میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ اور ان کی ملازمت کی شرائط کو بہتر بنانے کے لیے اخبار ملازمین (شرائطِ ملازمت) ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا ہے، جسے صحافتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ بل اخبار ملازمین (شرائطِ ملازمت) ایکٹ 1973 میں ترامیم پر مشتمل ہے، جس کا بنیادی مقصد پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافیوں اور دیگر ملازمین کو بہتر قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس قانون کے تحت ویج بورڈ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور اس کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ترمیمی بل میں تنخواہوں، الاؤنسز اور سروس اسٹرکچر سے متعلق شقوں کو اپڈیٹ کیا گیا ہے، تاکہ میڈیا ورکرز کو مہنگائی اور بدلتے معاشی حالات کے مطابق مناسب معاوضہ مل سکے۔ اس کے علاوہ ملازمین کی جبری برطرفی کے خلاف تحفظ کو مضبوط بنایا گیا ہے اور مالکان کے لیے قانونی تقاضوں کو سخت کیا گیا ہے۔بل کے مطابق میڈیا اداروں کو ملازمین کے کنٹریکٹس، تنخواہوں اور مراعات کے حوالے سے شفاف پالیسی اپنانا ہوگی، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانوں اور دیگر سزاؤں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں، ملازمین کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی اور سوشل سکیورٹی و دیگر فوائد کی فراہمی کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔حکومتی مؤقف ہے کہ اس قانون سازی سے صحافیوں کا معاشی استحکام بہتر ہوگا اور وہ زیادہ آزادی اور اعتماد کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکیں گے۔دوسری جانب کچھ میڈیا مالکان اور انڈسٹری نمائندگان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سخت قوانین سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہوگا، جس کے باعث چھوٹے اور درمیانے درجے کے اخبارات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ ترمیمی بل میڈیا ورکرز کے لیے ایک اہم قدم ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت پاکستان اور متعلقہ ادارے اس پر کس حد تک مؤثر عملدرآمد یقینی بناتے ہیں۔واضح رہے کہ ماضی میں بھی ویج بورڈ ایوارڈز پر مکمل عملدرآمد ایک بڑا مسئلہ رہا ہے، جسے حل کرنا اس نئے قانون کی کامیابی کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
