مزید اخبارات، چینلز بند ہوجائیں گے

تحریر: اصغر سومرو،جامشورو

ڈان اخبار اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ سرکاری اشتہارات بند ہو چکے ہیں، جبکہ نجی اشتہارات دینے والوں کو بھی روکا جا رہا ہے۔ یوں یہ اخبار اپنی نسبتاً آزاد ادارتی پالیسیوں کی قیمت چکا رہا ہے۔ حالات اس نہج تک پہنچ گئے ہیں کہ عباس ناصر کے مطابق خود اخبار کا وجود خطرے میں دکھائی دیتا ہے۔اتوار کے روز عباس ناصر کا ڈان میں آخری کالم شائع ہوا، کیونکہ اب اخبار ان کے کالم کی ادائیگی نہیں کر سکتا—جو غالباً پاؤنڈ یا ڈالر میں ہوتی تھی۔

ایک دوست نے کہا کہ صحافت میں بے ایمان اور دو نمبری لوگ مزے میں ہیں، کیونکہ ان کے پاس پیسے بھی ہیں اور پاور بھی؛ جبکہ پروفیشنل اور سچے صحافی مشکل میں ہیں۔ میں نے اسے کہا: کس نے کہا تھا وہ سچے صحافی مزے میں ہوں گے! بہرحال، عباس ناصر ان چند خوش نصیب صحافیوں میں سے تھے جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کالموں کے ذریعے ایک طویل عرصے تک اچھے پیسے کماتے رہے۔

آخری بات یہ ہے کہ مزید اخبارات اور نجی ٹی وی چینلز بھی بند ہو جائیں گے اگر سرکار انہیں پیسے دینا بند کر دے۔ آج کل یہ سرکاری اشتہارات اور مراعات پر چل رہے ہیں، اور جواب میں سب سرکار کے کہنے پر چل رہے ہیں۔ دیکھیں یہ سلسلہ کب تک چلتا ہے۔(اصغر سومرو،جامشورو)۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں