سکھر یونین آف جرنلسٹس کا  احتجاجی تحریک کا اعلان۔۔

سکھر یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداران و اراکین ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے کوٹری کے صحافیوں کو درپیش سنگین خطرات، ہراسانی اور قتل کی دھمکیوں کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر اس طرح کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا گیا۔اجلاس میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ کوٹری میں پیش آنے والے ایک مقامی تنازعے کو بعض عناصر کی جانب سے دانستہ طور پر صحافیوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ صحافتی برادری کے لیے خطرناک رجحان بھی ہے۔سکھر یونین آف جرنلسٹس نے واضح کیا کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا، ان کے گھروں پر حملے کروانا اور انہیں دھمکیاں دینا کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ کوٹری کے صحافیوں اسماعیل باریجو، دھنی بخش باریجو اور عظیم باریجو کو فوری اور مؤثر سیکیورٹی فراہم کی جائے اور ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔اجلاس میں حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے اعلان کردہ احتجاجی بھوک ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ سکھر یونین آف جرنلسٹس کے تمام یونٹس 27، 28 اور 29 مارچ 2026 کو سکھر سمیت تمام اضلاع کے پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کریں گے۔ رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر صحافیوں کے تحفظ کو یقینی نہ بنایا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔سکھر یونین آف جرنلسٹس نے حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے صحافیوں کو مکمل تحفظ فراہم کریں اور اس واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ صحافتی برادری میں پائے جانے والے خدشات کا ازالہ ہو سکے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں