سنونیوز، اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنے اپنوں میں۔۔۔

سنونیوز میں بحران کے باعث نصف کے قریب اسٹاف کو فارغ کئے جانے کے معاملے پر چینل انتظامیہ کی قیادت اختلافات کا شکار ہوگئی ہے، ایک دھڑا کہتا ہے کہ ایک ساتھ اتنی برطرفیاں کی گئیں تو میڈیا انڈسٹری میں شور مچ جائے گا اس لئے تھوڑی تھوڑی تعداد میں لوگوں کو نکالا جائے، دوسرے دھڑے کا موقف ہے کہ بحران کے ذمہ دار ان لوگوں کو بھی نکالنے والوں کی فہرست میں ڈالا جائے جو مفت کی روٹیاں توڑ رہے ہیں، جن میں اہلیت زیرو ہے لیکن تنخواہیں بہت بھاری لے رہے ہیں۔۔ پپو نے انکشاف کیا ہے کہ ادارے کی ایک اعلیٰ شخصیت کا بیٹا ایک ڈپارٹمنٹ کا ہیڈ ہے، دوسری اعلیٰ شخصیت کا بیٹا دوسرے شعبے کا ہیڈ ہے، ادارے کی ایک اور اعلیٰ شخصیت کا داما د بھی بھاری پیکیج میں لگا ہوا ہے، جب کہ اسی طرح  ایک بیورو کا ہیڈ بھی ایک اعلیٰ شخصیت کا برادر نسبتی ہے، پپو کا کہنا ہے کہ اگر صرف ان لوگوں کی تنخواہوں اور مراعات کا پیکیج دیکھا جائے تو  تیس سے چالیس عام ورکرز کی نوکریاں بچ سکتی ہیں۔۔ پپو نے مزید انکشاف کیا ہے کہ سنونیوزمیں میرٹ کا یہ حال ہے کہ دو سال قبل بھرتی ہونے والی ایک جونیئر رپورٹر اب سینئر رپورٹر بن چکی ہے، پہلے ہی سال اس کی تنخواہ میں اضافہ کردیاگیا، اور گزشتہ ایک سال میں تین بار اس کی تنخواہ میں اضافہ کیا گیا، اب  بہت جلد اسے گاڑی بھی دیئے جانے کا امکان ہے۔۔ پپو نے سوال اٹھایا ہے کہ سنونیوزکے کیا کسی اور رپورٹر کو اتنی تیزی سے ترقی ملی ہے یا اس کی تنخواہ میں اتنی برق رفتاری سے اضافہ ہوا ہے؟ پپو نے مزید بتایا کہ کیش والوں کو مارچ کی سیلری دے دی گئی ہے لیکن  اکاؤنٹس والے تاحال تنخواہوں کے منتظر ہیں۔۔پپو کے مطابق ادارے میں چھانٹیوں کی فہرست تیار کرلی گئی ہے اب اس میں فیوریٹ ازم کتنا ہے اور کتنے چہیتے، رشتہ دار، پیارے ، راج دلارے بچالئے جاتے ہیں، اس کا علم تو نہیں لیکن برطرفیوں پر عملدرآمد  کسی بھی دن متوقع ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں