information group ke 4 afsaraaan ki aglay grade mein taraqqi ki sifarish

اسلام آباد ٹاکس، پاکستانی صحافیوں کو مسائل کا سامنا۔۔

 حالیہ ایران۔امریکا سفارتی روابط کے تناظر میں پاکستانی میڈیا حلقوں میں ایک تنازع سامنے آیا ہے، جہاں مقامی صحافیوں نے کوریج کے دوران مبینہ پابندیوں اور غیر مساوی رسائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹرز اور میڈیا پروفیشنلز نے شفافیت اور رسائی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔جرنلزم پاکستان کے مطابق ملک کے اندر بعض رپورٹس کے مطابق مقامی صحافیوں اور ٹی وی چینلز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مذاکرات کی براہِ راست نشریات یا آزادانہ رپورٹنگ حکومتی اجازت کے بغیر نہ کریں۔ ان اطلاعات کے مطابق کوریج کو صرف سرکاری طور پر منظور شدہ معلومات تک محدود رکھا گیا ہے۔صورتحال سے آگاہ صحافیوں کے مطابق، یہ خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ بین الاقوامی میڈیا نمائندوں کو آن ارائیول ویزا کی سہولت فراہم کی گئی، جبکہ کئی مقامی صحافیوں کو ایکریڈیٹیشن حاصل کرنے یا بروقت پریس بریفنگز کے لیے دعوت نامے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔میڈیا نمائندگان کا کہنا ہے کہ انہوں نے شرکت کے طریقہ کار سے متعلق وضاحت کے لیے بارہا پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ اور وزارت اطلاعات سے رابطہ کیا،  تاہم طے شدہ پریس سرگرمیوں سے قبل انہیں محدود یا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ بعض صحافیوں نے اس صورتحال کو معمول کے بریفنگ پروٹوکول کے برعکس قرار دیا، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق ایک سرکاری مقام پر میڈیا کو سہولت فراہم کرنے کے لیے عارضی سیٹ اپ قائم کیا گیا تھا، لیکن اسے غیر ملکی وفود کی موجودگی میں باضابطہ پریس کانفرنسز کے لیے فعال طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے بھی حکومتی حکام نے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔سرکاری میڈیا اداروں اور عملی صحافیوں کے درمیان واضح رابطے کے فقدان نے تنقید میں اضافہ کر دیا ہے۔ کچھ رپورٹرز کا کہنا ہے کہ معلومات کی فراہمی کو کھلی بریفنگز کے بجائے محض پریس ریلیزز تک محدود رکھا گیا۔ پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ نے بھی مبینہ رسائی  کے انتظامات میں اپنے کردار کی کوئی تفصیل عوامی سطح پر جاری نہیں کی۔میڈیا مبصرین کے مطابق اہم سفارتی تقریبات کے دوران غیر واضح ایکریڈیٹیشن طریقہ کار ریاستی اطلاعاتی نظام اور صحافیوں کے درمیان بداعتمادی کو جنم دیتا ہے، خصوصاً جب متعدد بین الاقوامی فریق شامل ہوں۔صحافیوں اور میڈیا اسٹیک ہولڈرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حساس سفارتی سرگرمیوں کے دوران مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے لیے شفاف اور معیاری ایکریڈیٹیشن نظام متعارف کرایا جائے تاکہ ابہام کا خاتمہ ہو اور تمام صحافیوں کو مساوی رسائی حاصل ہو سکے۔تاحال میڈیا سینٹر کے استعمال یا بریفنگ تک رسائی میں فرق سے متعلق کسی بھی دعوے کی سرکاری دستاویزات یا عوامی بیانات کے ذریعے آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں