تحریر: مرتضیٰ زیب زہری۔۔
بلوچستان میں جیسے ہی مجوزہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کی بازگشت سنائی دی، اخباری صنعت کے چند مالکان شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے۔پریس کلبوں میں اجلاس، بیانات اور ملاقاتوں کے اعلانات دراصل اسی خوف کی علامت ہیں کہ اب صحافت کی دنیا میں وہ اجارہ داری برقرار نہیں رہ سکے گی جو دہائیوں سے قائم تھی۔
اخبار مالکان کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگر ڈیجیٹل میڈیا پالیسی نافذ ہوئی تو “اخباری صنعت کے ہزاروں کارکن بے روزگار ہو جائیں گے۔یہ دعویٰ نہ صرف مبالغہ آمیز ہے بلکہ زمینی حقائق کے بھی بالکل برعکس ہے۔
بلوچستان میں آج بیشتر اخبارات کی حالت یہ ہے کہ ان کے پاس مستقل بنیادوں پر دو درجن رپورٹر بھی موجود نہیں۔کئی اخبارات ایسے ہیں جن میں نہ باقاعدہ فوٹوگرافر ہیں اور نہ ہی سب ایڈیٹرز۔ ایسے میں ہزاروں کارکنوں کی بات کرنا محض عوام اور حکومت کو گمراہ کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران انہی اخبار مالکان نے درجنوں رپورٹرز، سب ایڈیٹرز اور فوٹوگرافرز کو یہ کہہ کر نوکریوں سے فارغ کیا کہ ادارے ان کی تنخواہیں ادا نہیں کر سکتے۔
اس وقت کسی کو صحافیوں کے روزگار کی فکر نہیں تھی۔ مگر جیسے ہی ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کی بات آئی تو اچانک انہیں صحافیوں کی فلاح یاد آنے لگی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہی مالکان جو کل تک اپنے اداروں میں صحافی رکھنے سے قاصر تھے، آج یہ اعلان کر رہے ہیں کہ جلد رپورٹرز اور ایڈیٹنگ اسٹاف کی بھرتیاں کی جائیں گی۔یہ اعلان دراصل اس خوف کا اظہار ہے کہ اگر ڈیجیٹل میڈیا مضبوط ہوا تو اخبارات کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔
اخبار مالکان یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی بنانے سے قبل “اسٹیک ہولڈرز” کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔سوال یہ ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی میں اخبارات کے مالکان کیسے اسٹیک ہولڈر ہو سکتے ہیں؟ ڈیجیٹل میڈیا ایک الگ شعبہ ہے جس میں ہزاروں نوجوان صحافی اور میڈیا ورکرز کام کر رہے ہیں۔کیا ان کی نمائندگی بھی انہی اخبارات کے مالکان کریں گے جنہوں نے انہیں روزگار سے محروم کیا؟
اصل حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا صحافت کے خاتمے کا نہیں بلکہ اس کے ارتقاء کا نام ہے۔ جو لوگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کر رہے ہیں وہ بھی صحافی ہیں اور وہ بھی عوام تک معلومات پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا نے صحافت کو چند مالکان کی اجارہ داری سے نکال کر عوامی سطح تک پہنچا دیا ہے۔اخبار مالکان کی جانب سے وزراء اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے اعلانات بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں تاکہ کسی طرح اس پالیسی کو روکا جا سکے۔مگر شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ آج کے دور میں وزراء، سیاسی جماعتیں اور سرکاری ادارے بھی اپنے ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز اور ٹیمیں رکھتے ہیں۔
انہیں اب معلومات کی ترسیل کے لیے اخبارات کی اجارہ داری پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔درحقیقت اگر ڈیجیٹل میڈیا کو منظم اور مضبوط کیا جائے تو اس سے روزگار کے نئے دروازے کھلیں گے۔ماس کمیونیکیشن کے نوجوان طلبہ، بے روزگار صحافی اور تجربہ کار سینئر رپورٹرز سب کو بہتر مواقع میسر آئیں گے۔نئے ڈیجیٹل چینلز اور پلیٹ فارمز قائم ہوں گے جہاں پیشہ ورانہ معیار اور مراعات کے ساتھ صحافت کو آگے بڑھایا جا سکے گا۔
یہ جدید دور کی حقیقت ہے کہ صحافت کا مستقبل ڈیجیٹل دنیا سے جڑا ہوا ہے۔جو لوگ اس تبدیلی کو سمجھنے کے بجائے اس کے راستے میں رکاوٹ بننے کی کوشش کر رہے ہیں وہ دراصل وقت کی رفتار سے لڑ رہے ہیں۔آج کا صحافی صرف ایک ادارے کا ملازم نہیں بلکہ ایک خودمختار آواز بن سکتا ہے۔ڈیجیٹل صحافت کے ذریعے وہ نہ صرف اپنے پیشے سے وابستگی کا اظہار کر سکتا ہے بلکہ ایک آزاد اور بااختیار پلیٹ فارم قائم کر کے عوام کی حقیقی نمائندگی بھی کر سکتا ہے۔لہٰذا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی سے صحافت کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوگی۔البتہ اس سے ان لوگوں کی اجارہ داری ضرور ختم ہوگی جو برسوں سے صحافت کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے آئے ہیں۔۔(مرتضی زیب زہری)۔۔
