حقائق پر مبنی خبریں روزنامہ حمایت کے رپورٹر کا جرم بن گیا ،قائد آباد کے علاقے میں موٹرسائیکل سوار مسلح ملزمان کا” حمایت” کے کرائم رپورٹر اختر علی ملک پر قاتلانہ حملہ شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا اطلاعات کے مطابق ضلع ملیر کے علاقے قائد آباد تھانے کی حدود مہران ہائی وے پر راحت شادی ہال کے قریب دو موٹر سائیکلوں پرسوار پانچ مسلح ملزمان نے روزنامہ ” حمایت ” کے کرائم رپورٹر پر حملہ کردیا ملزمان آتشیں اسلحہ اور خنجر سے مسلح تھے حملے میں اختر علی ملک شدید زخمی ہوگئے واقعہ کی اطلاع فوری طور پر پولیس ایمرجنسی 15 اور قائد آباد پولیس کو دے دی گئی پولیس نے ضابطے کی کاروائی کے بعد شدید زخمی اختر علی ملک کو طبی امداد کیلئے جناح اسپتال روانہ کردیا جہاں اسکی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے علاوہ ازیں جرنلسٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماء سینئر صحافی راؤمحمد جمیل، عرفان ساگر، ملک منور حسین ، جعفر عباس اور افضل سندھو سمیت دیگر نے روزنامہ ” حمایت” کے کرائم رپورٹر اختر علی ملک پر حملے کو انتہائی المناک سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سندھ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے صحافیوں کی کسی سے ذاتی عداوت یا رنجش نہیں ہوتی اُنہیں حق اور سچ لکھنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ جرنلسٹ ایکشن کمیٹی نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیرداخلہ سندھ ضياء الحسن لنجار اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافی اختر ملک پر قاتلانہ حملے کے ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور صحافیوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جائے۔
