رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے مطابق ایشیا پیسیفک میں صحافتی آزادی کمزور ہے؛ نصف سے زائد علاقے مشکل درجہ میں ہیں۔ پاکستان کی درجہ بندی تھوڑی بہتر ہوئی مگر صحافیوں پر قانونی اور ریگولیٹری دباؤ جاری ہے۔ایشیا پیسیفک خطے میں صحافتی آزادی مسلسل تنزلی کا شکار ہے، جبکہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں صحافیوں کو مستقل قانونی دباؤ، سیاسی مداخلت اور اطلاعات کے بہاؤ پر بڑھتے ہوئے کنٹرول کا سامنا ہے۔ رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز(آر ایس ایف) کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2026 کے فریم ورک ڈیٹا کے مطابق، خطے کے 32 ممالک اور علاقوں میں سے نصف سے زائد کو “مشکل” یا “انتہائی سنگین” صحافتی حالات کا سامنا ہے، جو اسے دنیا کے سب سے زیادہ محدود میڈیا ماحول میں شامل کرتا ہے۔ آر ایس ایف کے مطابق، قانونی اور ضابطہ جاتی نظام تیزی سے صحافت کے تحفظ کے بجائے اسے محدود کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں آزاد رپورٹنگ پر طویل مدتی ساختی دباؤ بڑھ رہا ہے۔پاکستان میں، آر ایس ایف کے 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک 180 میں سے 153ویں نمبر پر ہے، جو پچھلی درجہ بندی میں 158ویں نمبر کے مقابلے میں معمولی بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، اس بہتری کے باوجود صحافیوں کے لیے مجموعی ماحول بدستور دباؤ کا شکار ہے، جہاں قانونی مسائل، ریگولیٹری پابندیاں اور ادارتی آزادی کو درپیش چیلنجز برقرار ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کا میڈیا ایک ایسے ماحول میں کام کر رہا ہے جہاں قانونی مقدمات، ضابطہ جاتی کارروائیاں اور غیر رسمی دباؤ نیوز رومز میں خود سنسرشپ کو فروغ دیتے ہیں۔ صحافیوں اور میڈیا اداروں کو خاص طور پر سیاسی طور پر حساس موضوعات پر رپورٹنگ کے دوران مواد کی حدود کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہتا ہے۔خطے کے دیگر ممالک میں بھی اسی نوعیت کے رجحانات دیکھنے میں آ رہے ہیں، جہاں حکومتیں قومی سلامتی یا عوامی نظم و ضبط کے نام پر میڈیا بیانیے کو کنٹرول کرنے کے لیے قانونی فریم ورکس کا دائرہ وسیع کر رہی ہیں۔
پاکستانی صحافی قانونی دباؤ، سیاسی مداخلت کا شکار۔۔
Facebook Comments
