لوکل گورنمنٹ  رپورٹرز ایسوسی ایشن، پھڈا کیا ہے؟

تحریر: علی عمران جونیئر۔۔

دوستو، لوکل گورنمنٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے حوالے سے عمران جونیئر ڈاٹ کام پر دو روز قبل  ایک خبر۔۔ سرمنڈاتے ہی اولے پڑ گئے، نئے تنازعات سامنے آگئے۔۔ شائع ہوئی، جس کے بعد اگلے روز ایڈہاک کمیٹی کے رکن طلحہ مخدوم کی جانب سے اس حوالے سے وضاحت اور ساتھ ہی الیکشن ملتوی ہونے کی خبر شائع ہوئی۔۔

شدید مصروفیات کے باعث عمران جونیئر ڈاٹ کام کو وقت نہیں دے پارہا، لیکن ایک پراپر ٹیم عمران جونیئر ڈاٹ کام کیلئے کام کرتی رہتی ہے، جس میں کانٹینٹ لکھنے والے، رپورٹنگ کرنے والے افراد کے علاوہ تکنیکی ٹیم جو ویب سائٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنا کام کرتی ہے، مصروفیات اپنی جگہ لیکن خبروں پر نظریں رہتی ہیں، پھر میڈیا انڈسٹری  کی اپ ڈیٹس بھی ملتی رہتی ہیں اور میری ٹیم مارکیٹ کی نبض سے متعلق بھی آگاہ کرتی رہتی ہے۔۔ جب مذکورہ بالا دونوں خبریں نظر سے گزریں تو سوچا کیوں نہ لوکل گورنمنٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن پر کچھ کام کیا جائے، چنانچہ  ان دونوں خبروں کے بعد جو کچھ ہمیں پتہ لگا ہے ہم یہاں لکھ رہے ہیں اور واضح رہے کہ اختلاف رائے آپ کا حق ہے، آپ ہماری لکھی باتوں سے انکار بھی کرسکتے ہیں اور اختلاف بھی کرسکتے ہیں۔۔ اس تحریر کے حوالے سے کسی کو بھی کسی قسم کے تحفظات ہوں تو فوری ہم سے رابطہ کرکے اپنا موقف بھی  دے  سکتا ہے۔۔ہماری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں، نہ ہم  تنقید برائے تنقید کے قائل ہیں، جو ہورہا ہے یا ہوگیا اسے ہی بتانے کی کوشش کرتے ہیں، ہوسکتا ہے ہمارے بتانے کا اینگل غلط ہو یا ہم جو کچھ بتانا چاہ رہے ہیں وہ آپ سمجھ نہ پارہے ہوں یا ہم سمجھا نہیں پارہے، لیکن ہم حلفیہ کہتے ہیں کہ جو کچھ لکھتے ہیں نیک نیتی سے اور اصلاح کی نیت سے لکھتے ہیں۔۔

تو چلیں لوکل گورنمنٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن پر بات شروع کرتے ہیں، اس تنظیم کو بنے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے، لیکن اختلافات کی خبریں میڈیائی حلقوں میں پھیلنے لگیں۔۔ایسوسی ایشن کا جب قیام عمل میں لایا گیا تھا تو اس وقت نہ کوئی ووٹر لسٹ تھی اور نہ کوئی دفتر ۔۔ اس وقت جتنے بیٹ رپورٹرز تھے سب کو اطلاع دی گئی کہ ایسوسی ایشن بنائی جارہی ہے تمام لوگ آجائیں اس کے بعد متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام رپورٹر انتخابات کا حصہ بنتے ہیں جن سات نام پر سب زیادہ ووٹ ہوں گے تو وہ اپنی  ایڈہاک باڈی بناکر ایسوسی ایشن کو چلائیں اور جو ضروری عمل ہو اس کو پورا کریں۔۔پھر اس ووٹنگ کے نتیجہ میں۔۔سلمان سعادت ۔راشد صدیق۔شعیب مختار۔طلحہ مخدوم ۔محمد علی حفیظ ۔طاہر عزیز اور فرید عالم سب سے زیادہ ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے ۔۔ یہ عمل تمام لوگوں کے سامنے ہوا۔۔ ووٹنگ ۔  آن لائن ووٹنگ اور اسکے بعد گنتی کا عمل ۔ اس وقت موجود تمام لوگوں نے قرآن پر حلف لیا کہ سب منتخب لوگوں پر اعتماد کرتے ہیں پرانی رنجش بھلا کر آگے بڑھیں گے۔ اس موقع پر طاہر عزیز نے جیتنے کے بعد تمام لوگوں کے سامنے کہا کہ میں اپنی جگہ شاہد مصطفی کو نامزد کرتا ہوں ۔۔ جس پر تمام لوگوں نے عتراض کیا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ جو جیتے وہ اپنی سیٹ چھوڑ کر کسی اور کو دے دے ۔۔بہرحال یہ معاملہ طے ہوا تو قرآن پر حلف کے بعد بھی شاہد مصطفی اور ضیاء الرحمان نے ووٹنگ پر اعتراض کیا جبکہ وہ ووٹنگ گنتی کے پورے عمل میں شریک رہے۔۔ بہرحال انکے اعتراض کو دور کیا گیا اور منتخب لوگوں کے پاس الیکشن کا پورا ریکارڈ تھا جو انکو پیش کیا گیا تو انکو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔۔

منتخب لوگوں نے اسکے بعد پہلے خود کو عبوری کمیٹی ڈکلئیر کیا تاکہ تنظیم کو ایک شکل دیکر ۔۔ نئے انتخابات  کی  طرف جایا جائے ۔۔۔ حالانکہ  یہ سات لوگ ووٹنگ کے ذریعے منتخب ہوئے تو وہ چاہتے تو ایسوسی ایشن میں خود کو مختلف عہدوں پر ڈکلئیرڈ کرکے اپنی من پسند گورننگ باڈی منتخب کر لیتے ۔ ان سات لوگوں کی کمیٹی بننے کے بعد پہلے مرحلے پر دفتر کے قیام  اور ممبران کی حتمی فہرست کے کام کا آغاز کیا گیا۔۔ اس کیلئے سہیل رب خان، ملک آفتاب، سرفراز قائم خانی اور نذیر میمن پر مشتمل  اسکروٹنی کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ اس کمیٹی نے کئی ممبران کے نام کے ساتھ مختلف اعتراض لگاکر منتخب عبوری کمیٹی کو فہرست دی ۔اس فہرست کے مطابق تقریبا چھتیس افراد کو ممبر شپ دی گئی ۔۔(کس پر کیا اعتراض لگایاگیا، یہ تمام معلومات بھی دستیاب ہیں، لیکن فی الحال یہ ہمارا موضوع نہیں۔۔ )

آگے بڑھتے ہیں، منتخب عبوری کمیٹی  کے اجلاس میں طاہر عزیز نے بیوروچیف،چیف رپورٹر اور کسی اور ایسوسی ایشن کے ممبر کو لوکل  گورنمنٹ  رپورٹر زایسوسی ایشن  کی  ممبر شپ نہ دینے تجویز دی اور اس حوالے سے اپنے دلائل بھی دیئے۔جس کے بعد انکی رائے کا احترام کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا اور اسکو ابتدائی قانونی مسودے میں شامل کیا گیا۔ اسی اجلاس میں راشد صدیق نے پرانے بلدیاتی رپورٹرز کو ایسوسی ایشن کی اعزازی ممبر شپ دینے کی تجویز دی جس کو طاہر عزیز نے مسترد کردیا اور مخالفت کی ۔

ممبران کی اسکروٹنی، دفتر کا قیام، ممبران کی حتمی فہرست اور دیگر امور کے دوران مسلسل شاہد مصطفیٰ پر تنظیمی پالیسیوں کی خلاف ورزی کا الزام لگتا رہا اور طاہر عزیز ان کی حمایت  کرتے رہے۔ دفتر کا قیام ،ایسوسی ایشن کی رجسٹریشن کے معاملات میں بڑھ چڑھ کر منتخب  عبوری باڈی کے ارکان ہی دن رات ایک کرکے لگے رہے ۔۔ ایسوسی ایشن کے کسی ممبر کو باڈی نے کوئی تکلیف نہیں ہونے دی ۔ آخری اجلاس جس میں دو ممبر غیر حاضر تھے ۔ایک بات یاد رہے جن لوگوں کو ممبرز بنالیا گیا تھا اسکے بعد نئے ممبرز بنانے کے لیے الیکشن کے بعد نئی باڈی کو اختیار دینے کا کمیٹی کے منٹس اجلاس کے رجسٹرڈ  میں خود طاہر عزیز نے تحریر کیا اور اسکے حامی اور یہ قانون کے لئے ان کے ہی دلائل تھے۔

سات اکتوبر جس اجلاس میں الیکشن کی منظوری دی گئی کمیٹی کے بیشتر ارکان کے اعتراض کے باوجود نعمان رفیق۔ شاہد گدی۔فیاض آرائیں ۔ساجد اعوان اور عمران ایوب کو ایسوسی ایشن کا ممبر بنایا گیا۔ ان میں سے دو افراد کو ممبر بنانے کے لئے طاہر عزیز پیش پیش تھے  ، منتخب عبوری کمیٹی نے طاہر عزیز کے سینئر ہونے کی عزت کرتے ہوئے اس بات کی بھی منظوری دیدی ۔۔

اب بات الیکشن کے مرحلے کی ،الیکشن اناؤنس ہونے کے بعد عبوری منتخب کمیٹی کے ارکان نے دفتر میں امیدواروں کو فائنل کرنے کے لئے اجلاس بلایا،اجلاس میں طاہر عزیز کچھ تاخیر سے پہنچے مگر اس وقت تک کوئی بھی نام فائنل نہیں تھا ،ماسوائے سلمان سعادت کے وہ صدر کا امیدوار ہوگا اور شاہد مصطفی نائب صدر ۔ طاہر عزیز جب اجلاس میں آئے تو انہوں نے سب پہلے خود الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کیا اور کہا کہ شاہد مصطفی سیکرٹری کا امیدوار ہوگا ۔ جس پر تمام ارکان نے اعتراض کیا ۔۔اسی اجلاس میں طاہر عزیز نے عمران ایوب کا بھی نام پیش کیا ۔ جس پر اعتراض کیا گیا کہ وہ  ایکٹیو نہیں تو انکے نام پر غور نہ کیا جائے ۔ بہرحال طاہر عزیز ،شاہد مصطفی کے لئے سیکرٹری یا پھر صدر کی سیٹ کا مطالبہ کرتے رہے اور اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا ۔اجلاس کے بعد کےایم سی ہیڈافس کے احاطے میں طاہر عزیز ۔شاہد مصطفی ، ضیاء الرحمان کافی دیر تک بات چیت کرتے رہے ۔ اسکے بعد شاہد مصطفی نے اعلان کیا کہ وہ صدر یا سیکرٹری کے ہی امیدوار ہوں گے اور ساتھ انہوں نے پیر کے روز  تمام ارکان کو ظہرانے کہ دعوت دی اور یہ دعوت انہوں نے مئیر اور ڈپٹی مئیر کو بھی دی۔۔اسی دن جب شاہد مصطفی کے ایم سی ہیڈ آفس سے جانے لگے تو انکی سلمان سعادت ۔ شعیب مختار اور راشد صدیق سے ملاقات  ہوئی ، شاہد مصطفیٰ نے انہیں بھی ظہرانے کی دعوت دی۔۔ اس دوران شاہد مصطفی سے سلمان سعادت نے کھانے  میں کیا ڈش ہوگی اس حوالے سے پوچھا، شاہد مصطفی کے جواب میں سلمان  سعادت نے بھی اس ظہرانے کیلئے اپنی جانب سے ایک ڈش رکھنے کا اعلان کیا۔۔ اور شاہد مصطفی کو کہا کہ پینل پر بھی ظہرانے پر بات کرکے فائنل کرلیں گے ۔ یہاں تک کسی ایک فرد کو بھی نہ ووٹر لسٹ پر اعتراض تھا نہ کسی جنرل کونسل پر کوئی اعتراض تھا ۔ نہ ہی کوئی اعتراض جو الیکشن کمیشن کو دیے گئے۔۔

اسی دن طاہر عزیز نے بطور عبوری کمیٹی کے سینئر ممبر کے ناطے الیکشن کمیشن کو پانچ ارکان  کی شکایت کی درخواست دی ۔ یاد رہے الیکشن کے بعد کوئی کمیٹی نہیں رہتی سوائے کنوینر کے اور یہ عہدہ سلمان سعادت کے پاس ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ طاہر عزیز نے کسی بھی رکن کو اعتراض سے آگاہ کئے بغیر الیکشن کمیشن کو درخواست دی ۔ جس کے بعد دس مزید ممبران نے الیکشن کمیشن کو درخواست میں الیکشن کرانے کی استدعا کی۔۔جس کے بعد اختلافات مزید بڑھ گئے۔۔

الیکشن کمیٹی جو ڈاکٹر توصیف احمد خان کی سربراہی میں بنی، انہوں نے الیکشن ملتوی کرتے ہوئے عبوری کمیٹی کو آئین بنانے کی ہدایت کی۔ اب جمعہ کو ایسوسی ایشن کا جنرل کونسل اجلاس ہے، جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں، تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ ۔ اکتالیس میں سے چھبیس ارکان نے الیکشن کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور الیکشن  کمیشن کے اعتراض کو دور کرکے ہر صورت الیکشن میں جانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔اور اسی اکثریت کا موقف ہے کہ صرف ایک شخص کو عہدہ دلوانے کی لالچ یا خواہش پر کچھ لوگ ایسوسی ایشن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔۔ (علی عمران جونیئر)۔۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں