سینئر صحافی کے بھائی کے خلاف محراب پور پولیس نے جھوٹا مقدمہ درج کرلیا۔۔ صحافیوں نے تھانے کے گھیراؤ اور احتجاج کی دھمکی دے دی۔۔ تفصیلات کے مطابق ۔۔سندھ کے شہر محراب پور میں قبضہ مافیا نے کسی زمین پر قبضہ کیا جس کی بنائی گئی وڈیو میں سینئر صحافی محمودالحسن جلالی کا بھائی بھی ایک کونے میں کھڑا نظر آیا، جس پر محراب پولیس نے صحافی کے بھائی کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا۔۔ جس پر صحافیوں نے پولیس سے رابطہ کیا اور مقدمہ درج کرنے کی وجہ پوچھی جس پر انہیں بتایاگیا کہ وہ وڈیو میں نظر آرہا ہے، جس پر صحافیوں نے بتایا کہ وڈیو میں تو تین پولیس اہلکار بھی اسلحہ سمیت نظر آرہے ہیں، پھر ان پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیوں نہیں کیاگیا۔۔ اس سلسلے میں صحافیوں نے ایس ایچ او محراب پور کو واضح کیا کہ تین دن میں اگر صحافی کے بھائی اعجاز شاہ کا نام مقدمہ سے خارج نہ کیاگیا تو پندرہ اپریل دوپہر بارہ بجے تھانے کا گھیراؤ کرکے احتجاج کیا جائے گا۔۔اس حوالے سے محراب پور یونین آف جرنلٹس کا ہنگامی اجلاس صدر محمود الحسن جلالی اور جنرل سیکرٹری مرتضیٰ بوھیو کی صدارت میں ہوا، ضلعی نائب صدر منور حسین منور نے خصوصی شرکت کی، بھٹائی پریس کلب سے مجاہد سامیٹو، سچل پریس کلب سے عظیم نوناری بطور اظہاریکجہتی شریک ہوئے، اجلاس میں محراب پور یونین کے درجنوں ممبرز نے بھرپورشرکت کرکے مذمت کرتے ہوئے ہر طرح تعاؤن کی یقین دہانی کروائی۔۔محراب پور یونین آف جرنلسٹس کے اجلاس کے آخر میں ایس ایچ او محراب پور کیخلاف بھرپور احتجاج کرتے ہوئے صحافیوں کی جانب سے تین دن کا الٹی میٹم دیا گیا ۔۔محمود الحسن جلالی کے بھائی اعجاز شاہ کا نام مقدمہ سے خارج نہ۔ہونے پر 15اپریل 12بجے تھانے کے۔باہر۔احتجاج کا اعلان کیا گیا جس میں یونین آف جرنلسٹس کے تمام ممبرز سمیت دیگر صحافتی تنظیمیں و صحافی شرکت کرینگے۔
