سما ٹی وی سے نکالے گئے رپورٹر کی اہلیہ پمز اسپتال میں موت و زندگی کی کشمکش میں ، دومعصوم بچوں کی ماں کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا، وہ چار ماہ کی حاملہ بھی ہے۔۔ پپو نے انکشاف کیا ہے کہ سما سے نکالے گئے رپورٹر کو اسلام آباد بیورو میں اچانک برطرفی کا پروانہ تھمایاگیا تھا، وہ چھٹیوں پر اپنے گاؤں گیا تھا تو ایچ آر نے اسے کال کرکے دفتر بلوایا اور کہا کہ آفس کارڈ واپس کردیں، جب رپورٹر نے وجہ پوچھی تو اس سے کہا گیا کہ ادارہ مالی بحرا ن کا شکار ہے،رپورٹر جیسے ہی چھٹیاں ادھوری چھوڑ کر دفتر پہنچا تو ایچ آر اس سے زبردستی ریزائن کابولا، ساتھ ہی دھمکی دی کہ اگر ریزائن نہیں کرو گے تو پھر بقایاجات نہیں ملیں گے۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ رپورٹر نے بقایاجات نہ ملنے کے ڈر سے ریزائن کردیا، جس کے بعد سے اب تک وہ نئی جاب کی تلاش میں ہے اور اب اس کی اہلیہ ہارٹ اٹیک کا شکار ہوکر اسپتال میں داخل ہوگئی ہے۔پپو کے مطابق رپورٹر پہلے ہی مالی پریشانیوں سے دوچار ہے اور اوپر سے نئی افتاد نے اس کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔۔
