سر منڈاتے ہی اولے پڑنے لگے۔۔تنازعات سامنے آگئے۔۔

کراچی میں لوکل گورنمنٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے متوقع انتخابات سے قبل ہی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں ایڈہاک کمیٹی کے رویے، اختیارات اور اب ووٹر لسٹ کی تیاری پر بھی سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق، گروپ میں مبینہ بدتمیزی اور غیر پیشہ ورانہ رویے کے باعث متعدد سینئر صحافی گروپ چھوڑ چکے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے سینئر رپورٹر نعیم خانزادہ کے بعد دنیا ٹی وی کے سینئر رپورٹر علی مہدی نے بھی گروپ لیفٹ کر دیا، اطلاعات کے مطابق، سینئر صحافی شاہد مصطفیٰ، شاہد قریشی، نعمان رفیق اور ضیاء الرحمن سمیت دیگر صحافیوں کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔ شاہد قریشی کو توہین آمیز جملوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ دیگر صحافیوں کو بھی گفتگو سے روکنے اور دباؤ ڈالنے کی شکایات سامنے آئیں۔مزید برآں، سینیئر رپورٹر نعمان رفیق کی جانب سے جب ایڈہاک کمیٹی کے قوانین اور الیکشن طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے تو انہیں بھی سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے قیام کے وقت جن صحافیوں نے ووٹ دیا، انہی کو موجودہ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا، جبکہ غیر متعلقہ افراد کو ووٹر لسٹ کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ اس عمل نے الیکشن کی شفافیت پر مزید سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔دوسری جانب ایڈہاک کمیٹی کی جانب سے  یہ بیان بھی سامنے آیا کہ “جسے رہنا ہے رہے اور جسے نہیں رہنا وہ جا سکتا ہے”۔

واضح رہے کہ ایڈہاک کمیٹی سے متعلق قوانین کے مطابق جو صحافتی تنظیموں میں اکثریت سے رائج ہے کہ۔۔ ایڈہاک کمیٹی ایک عارضی سیٹ اپ ہے جس کا بنیادی مقصڈ صرف شفاف الیکشن کرانا ہوتا ہے۔ایڈہاک کمیٹی کو مستقل یا متنازع فیصلوں کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔وہ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ووٹ لسٹ میرٹ پر اور شفاف ہو، ساتھ ہی تمام اراکین کے ساتھ مساوی اور باوقار رویہ رکھا جائے۔تاہم موجودہ صورتحال میں ان اصولوں کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آ رہے ہیں، جس سے الیکشن کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ایڈہاک کمیٹی کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ  تنظیم کے اراکین کی جانب سے  شفاف تحقیقات اور منصفانہ الیکشن کے انعقاد کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں