حکومت نے قومی خبر رساں ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن (ترمیمی) بل 2026 منظور کر لیا ہے، جس کے بعد ادارے کی تنظیمِ نو اور انتظامی ڈھانچے میں اہم تبدیلیوں کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ذرائع کے مطابق یہ ترمیمی بل ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے موجودہ قانونی اور انتظامی فریم ورک کو اپڈیٹ کرنے کے لیے پیش کیا گیا تھا، تاکہ اسے ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق زیادہ مؤثر اور خودمختار بنایا جا سکے۔بل کے تحت ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل، اختیارات اور تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ادارے کی مالی خودمختاری بڑھانے اور اس کے آپریشنز کو زیادہ شفاف بنانے کے لیے نئی شقیں شامل کی گئی ہیں۔ترمیمی قانون میں اے پی پی کو ڈیجیٹل میڈیا، ملٹی میڈیا جرنلزم اور بین الاقوامی خبر رسانی کے میدان میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ادارے کی تکنیکی اپ گریڈیشن، افرادی قوت کی تربیت اور جدید نشریاتی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی جائے گی۔حکومتی مؤقف ہے کہ اس بل کے ذریعے اے پی پی کو ایک جدید، بااعتماد اور پیشہ ور خبر رساں ادارہ بنایا جائے گا، جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مؤثر مؤقف پیش کر سکے۔تاہم بعض ماہرین اور صحافتی حلقوں نے اس بل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ادارے کی انتظامیہ پر حکومتی اثر و رسوخ بڑھا تو اس کی ادارتی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے، جو صحافتی اصولوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔بل میں ادارے کے ملازمین کی سروس اسٹرکچر، بھرتیوں اور مراعات سے متعلق معاملات کو بھی بہتر بنانے کی شقیں شامل کی گئی ہیں، تاکہ پیشہ ورانہ معیار کو بلند کیا جا سکے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ترمیمی بل اے پی پی کی کارکردگی میں بہتری لانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار شفافیت، خودمختاری اور مؤثر عملدرآمد پر ہوگا۔
اے پی پی کے انتظامی ڈھانچے میں اہم تبدیلیوں کی راہ ہموار۔۔۔
Facebook Comments
