وفاقی حکومت نے ملک کے مختلف ٹی وی چینلز اور میڈیا اداروں میں صحافیوں اور دیگر ملازمین کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور طویل عرصے سے زیر التوا مالی واجبات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ یہ اقدام پارلیمانی صحافیوں کی جانب سے قومی اسمبلی کی کارروائی سے احتجاجاً واک آؤٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔ 27 اکتوبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر اے) سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے مختلف میڈیا اداروں میں ملازمین کی برطرفیوں اور تنخواہوں کی مسلسل عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی سے واک آؤٹ کیا۔اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے احتجاج کرنے والے صحافیوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سننے کے بعد قومی اسمبلی کو حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔
بلال اظہر کیانی نے ایوان کو بتایا کہ انہوں نے پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن سے ٹی وی چینلز کی سطح پر مکمل معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے، جن میں تنخواہیں ادا نہ کرنے والے اداروں کے نام، متاثرہ صحافیوں اور دیگر میڈیا کارکنوں کی تعداد، تنخواہوں میں تاخیر کی مدت اور مجموعی واجب الادا رقوم کی تفصیلات شامل ہوں گی۔وزیر مملکت کے مطابق صحافیوں سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر متعلقہ حکام کے ساتھ معاملات اٹھائے جائیں گے تاکہ متاثرہ ملازمین کی شکایات کا جائزہ لے کر مناسب اقدامات کیے جاسکیں۔
انہوں نے بتایا کہ صحافیوں کی جانب سے بعض نجی ٹی وی چینلز میں ملازمین کو ملازمتوں سے نکالے جانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں، جن کے حوالے سے تفصیلی ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔
بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سے بھی بات چیت کی ہے۔ وزیر اطلاعات نے آگاہ کیا کہ حکومت صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی تنخواہوں میں تاخیر کا معاملہ پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے ساتھ باقاعدگی سے اٹھاتی رہی ہے۔وزیر مملکت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ میڈیا اداروں کو حکومت کی جانب سے واجب الادا ادائیگیوں کا معاملہ بھی اس مسئلے سے متعلق ہے، جسے مجموعی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے مدنظر رکھنا ضروری ہے۔صحافیوں کے مسائل کے مستقل حل کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ وہ اس تجویز کو وفاقی وزیر اطلاعات کے سامنے غور کے لیے پیش کریں گے تاکہ صحافیوں کو درپیش معاشی اور پیشہ ورانہ مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکے۔
احتجاج کرنے والے صحافیوں نے ٹی وی چینلز کے لائسنس کے اجرا اور تجدید سے متعلق شرائط اور متعلقہ قوانین پر نظرثانی کی تجویز بھی دی۔ ان کا مؤقف تھا کہ میڈیا کارکنوں کے روزگار، تنخواہوں اور دیگر بنیادی حقوق کے تحفظ کو نشریاتی اداروں کی لائسنسنگ شرائط سے منسلک کرنے پر غور کیا جانا چاہیے۔وزیر مملکت نے صحافیوں کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے اپنی قانونی اور انتظامی تجاویز تحریری صورت میں فراہم کریں تاکہ انہیں وزارت اطلاعات و نشریات تک پہنچایا جاسکے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات بھی اس سے قبل میڈیا کارکنوں کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر تشویش کا اظہار کرچکی ہے۔ 3 ستمبر 2026 کو رکن قومی اسمبلی پلین بلوچ کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی نے واضح کیا تھا کہ ملازمین کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی میڈیا اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے اور انہیں سرکاری واجبات کی عدم ادائیگی کا جواز بنا کر مالی مشکلات سے دوچار نہیں کیا جانا چاہیے۔قائمہ کمیٹی نے میڈیا اداروں کے ذمہ واجب الادا تنخواہوں اور دیگر مالی معاملات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے متعلقہ حکام پر زور دیا تھا کہ ملازمین کے مالی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
تازہ حکومتی اقدام کے باوجود اب تک متاثرہ صحافیوں کی مجموعی تعداد، مختلف ٹی وی چینلز کے ذمہ واجب الادا تنخواہوں کی کل رقم اور بقایاجات کی ادائیگی کے لیے کسی حتمی وقت کا اعلان نہیں کیا گیا۔صحافتی حلقوں کے لیے اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا حکومت کی جانب سے طلب کردہ تفصیلات کی بنیاد پر عملی کارروائی بھی کی جائے گی اور کیا طویل عرصے سے تنخواہوں اور روزگار کے تحفظ کے منتظر صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو حقیقی ریلیف مل سکے گا۔
16