کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری اسلم خان اور مجلس عاملہ نے پریس کلب کے سینئر ممبر شکیل نائچ کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے دو نوٹس جاری کیے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کو بار بار نوٹسز اور طلبی کے ذریعے دباؤ میں لانے کا عمل آزادی صحافت کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔کراچی پریس کلب سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ صحافت جرم نہیں اور سوال اٹھانا کسی بھی جمہوری معاشرے میں قابلِ گرفت عمل نہیں ہونا چاہیے۔ کسی صحافی کے خلاف اگر کوئی قانونی شکایت یا معاملہ موجود ہے تو قانون کے مطابق شفاف کارروائی کی جائے، تاہم ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جن سے صحافی برادری میں خوف، دباؤ یا عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو۔صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری اسلم خان اور مجلس عاملہ نے واضح کیا کہ کراچی پریس کلب اپنے کسی بھی رکن کو قانونی عمل سے فرار کی حمایت نہیں کرتا، تاہم صحافیوں کو قانونی کارروائی کے نام پر غیرضروری ہراساں کیے جانے یا ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر دباؤ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو خاموشی سے قبول نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شکیل نائچ کراچی پریس کلب کے سینئر ممبر ہیں اور ان کے معاملے کو محض ایک فرد کا معاملہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ آج ایک صحافی کو نوٹس جاری ہوتا ہے، کل یہی طریقہ کسی دوسرے صحافی کے لیے استعمال ہوسکتا ہے؛ اس لیے صحافی برادری کے تحفظات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔کراچی پریس کلب کی مجلس عاملہ نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ شکیل نائچ کو جاری کیے گئے دونوں نوٹسز کے معاملے میں تمام قانونی تقاضوں، شفافیت اور صحافتی حقوق کو ملحوظ خاطر رکھا جائے اور کسی بھی قسم کے غیرضروری دباؤ سے گریز کیا جائے۔کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے مزید کہا کہ آزادی اظہار اور آزادی صحافت آئینی و جمہوری معاشرے کی بنیادی اقدار ہیں، ان کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ کراچی پریس کلب صحافی برادری کے ساتھ کھڑا ہے اور اپنے ارکان کے جائز حقوق اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے ہر آئینی و قانونی فورم پر آواز بلند کرتا رہے گا۔
13
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل