سینئر صحافی اور وفاقی وزیراطلاعات میں صلح ہوگئی۔۔ 7

سینئر صحافی اور وفاقی وزیراطلاعات میں صلح ہوگئی۔۔

صحافی عمران شفقت نے متنازع وی لاگ ڈیلیٹ کر دیا، عطاء اللہ تارڑ نے این سی سی آئی اے سے درخواست واپس لے لی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے وزیراعظم آفس کے اہم افراد سے متعلق وی لاگ کے معاملے پر صحافی و تجزیہ کار سید عمران شفقت کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں دائر اپنی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت عمران شفقت کی جانب سے متعلقہ وی لاگ ڈیلیٹ کرنے اور تحقیقاتی ادارے میں اپنا تحریری جواب جمع کرانے کے بعد سامنے آئی ہے۔دستیاب تفصیلات کے مطابق صحافی سید عمران شفقت نے اپنے ایک وی لاگ میں وزیراعظم آفس سے وابستہ اہم شخصیات کے حوالے سے بعض معاملات پر گفتگو کی تھی، جس پر وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے این سی سی آئی اے سے رجوع کیا تھا۔اس درخواست کے بعد عمران شفقت نے متعلقہ وی لاگ اپنے پلیٹ فارم سے حذف کر دیا اور این سی سی آئی اے میں اپنا مؤقف جمع کرایا۔ اپنے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ وی لاگ میں کسی مخصوص فرد کا نام لے کر اس پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی ان کا مقصد کسی شخصیت کی کردار کشی کرنا یا کسی کی دل آزاری کرنا تھا۔عمران شفقت نے اپنی وضاحت میں وی لاگ کے پس منظر اور اس میں کی گئی گفتگو کے حوالے سے بھی اپنا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی گفتگو کا مقصد کسی فرد کی ذاتی ساکھ کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے عمران شفقت کی جانب سے جواب جمع کرائے جانے کے بعد معاملے کو مزید آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ عطاء اللہ تارڑ کے مطابق متعلقہ وی لاگ بغیر تصدیق کے کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں غلط تاثر پیدا ہوا، جبکہ اس تاثر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنے مؤقف میں کہا کہ سید عمران شفقت کی جانب سے این سی سی آئی اے میں جواب جمع کرائے جانے کے بعد وہ اپنی درخواست واپس لے رہے ہیں اور معاملے کو مزید طول دینے کے خواہش مند نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جولائی 2026 میں بھی صحافی عمران شفقت کو وفاقی وزیر اطلاعات کی شکایت پر ایک وی لاگ کے سلسلے میں این سی سی آئی اے کی جانب سے طلب کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اس پیش رفت کو صحافتی حلقوں میں سائبر کرائم قوانین کے تحت صحافیوں کو طلب کیے جانے کے معاملات کے تناظر میں رپورٹ کیا گیا تھا۔ تازہ پیش رفت کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات کی جانب سے درخواست واپس لینے کے فیصلے سے دونوں فریقوں کے درمیان پیدا ہونے والا تنازع ختم ہونے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ تاہم این سی سی آئی اے کی جانب سے درخواست کی باضابطہ واپسی اور متعلقہ انکوائری کے اختتام کی علیحدہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں