پریس کلبز،پیمرا، انفارمیشن ڈپارٹمنٹس بند کرنے کا مطالبہ۔۔ 14

پریس کلبز،پیمرا، انفارمیشن ڈپارٹمنٹس بند کرنے کا مطالبہ۔۔

پاکستان مسلم لیگ (قیوم) کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات فیصل انور نے صحافتی اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو نوکریوں سے جبری طور پر فارغ کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔اپنے ایک بیان میں فیصل انور کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ نہیں سکتی۔ صحافتی اداروں کے لیے حکومتی قوانین موجود ہیں جبکہ صحافتی ذمہ داریوں کو نبھانے والے صحافی کے تحفظ کے لیے کوئی قانون موجود نہیں، جو لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پریس کلب، پیمرا اور پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام نہیں کر سکتے تو ان اداروں کو بند کر دینا چاہیے۔ میڈیا حکومت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن افسوس کہ حکومت میڈیا مالکان کے خلاف بات کرنے سے بھی کتراتی ہے۔میڈیا کے اداروں میں جبری برطرفیوں کا سلسلہ گذشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اس کے باوجود حکومت میڈیا انڈسٹری کے لیے کام کرنے والوں کے لیے کوئی جامع پالیسی نہیں بنا سکی۔ جس صحافی کے پاس نوکری نہیں اسے نیشنل پریس کلب بھی صحافی نہیں مانتا اور ممبرشپ معطل کر دی جاتی ہے۔ ایسی تنظیموں کو گرانٹس دے کر حکومت کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟ ان گرانٹس سے کچھ عہدیداران کے پیٹ تو بھر دیے جاتے ہیں لیکن اکثریت کو ان گرانٹس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔انہوں نے کہا کہ صحافت سے وابستہ افراد میڈیا انڈسٹری کے علاوہ کہیں اور نوکری نہیں کر سکتے لہذا حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی بھی میڈیا کے ادارے میں جبری برطرفی نہیں کی جائے گی اور تنخواہیں وقت پر ادا کی جائیں گی۔
مسلم لیگ (قیوم) حکومت وقت سے مطالبہ کرتی ہے کہ:
1. میڈیا کے اداروں کو قوانین کا پابند کیا جائے
2. اداروں سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے
3. اگر ان قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے تو فوری طور پر ترمیم کی جائے تاکہ مزید کسی صحافی کے گھر کا چولہا بجھ نہ سکے۔
فیصل انور نے مزید کہا کہ حکومتی ادارے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کو اپ گریڈ کیا جائے تاکہ یہ ادارے بہتر کام کر سکیں۔ ایک عرصے سے پی ٹی وی ہوم کی ڈراما پروڈکشن بند ہے جبکہ ان اداروں میں کڑوڑوں کا سامان ڈبوں میں پڑا ہوا سڑ رہا ہے۔ دوسری جانب ملک کی فلم انڈسٹری بھی بند پڑی ہے جس کی وجہ سے ہدایتکار، فنکار اور گلوکار سمیت پروڈکشن سے وابستہ افراد بھی سخت مایوسی کا شکار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں