کراچی پریس کلب میں مس انفارمیشن، ڈس انفارمیشن اور فیک نیوز کی تصدیق کے حوالے سے تربیتی سیشن منعقد کیا گیا۔ سیشن میں غلط اور گمراہ کن معلومات کی شناخت، حقائق کی جانچ پڑتال اور ڈیجیٹل ذرائع سے خبروں کی تصدیق کے مختلف طریقوں پر روشنی ڈالی گئی۔
تربیتی سیشن میں شرکاء کو بتایا گیا کہ ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے والی غیر مصدقہ معلومات عوامی رائے کو متاثر کرنے کے ساتھ صحافتی ذمہ داریوں کے لیے بھی چیلنج بن سکتی ہیں، اس لیے کسی بھی خبر کو نشر یا شائع کرنے سے قبل اس کے مستند ہونے کی تصدیق ضروری ہے۔سیشن کے دوران مس انفارمیشن، ڈس انفارمیشن اور فیک نیوز کے درمیان فرق، فیکٹ چیکنگ، مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ یا تبدیل شدہ مواد کی شناخت اور گمراہ کن معلومات کے تدارک کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔شرکاء کو اوپن سورس انٹیلی جنس (OSINT) کے استعمال، گوگل ریورس امیج سرچ کے ذریعے تصاویر کی اصل اور سابقہ اشاعت کا سراغ لگانے، مختلف سرچ انجنز سے معلومات کی تصدیق اور آن لائن میپنگ کے ذریعے تصاویر، ویڈیوز اور واقعات کے مقامات کی جانچ پڑتال کے طریقوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔تربیت میں اس امر پر زور دیا گیا کہ صحافیوں کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر، ویڈیوز، بیانات اور خبروں پر فوری یقین کرنے کے بجائے ان کے اصل ماخذ، تاریخ، مقام اور سیاق و سباق کی تصدیق کرنی چاہیے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی جانچ اور مختلف مستند ذرائع سے معلومات کی کراس ویریفکیشن بھی ضروری ہے۔
سیشن کا مقصد صحافیوں کی ڈیجیٹل مہارتوں کو بہتر بنانا اور انہیں جدید ٹیکنالوجی اور آن لائن ٹولز کے مؤثر استعمال کے ذریعے غلط معلومات کی نشاندہی، حقائق کی تصدیق اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے قابل بنانا تھا۔سیشن سے کراچی پریس کلب کے سیکریٹری اسلم خان نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ پریس کلب آئندہ بھی اس طرح کے سیشنز منعقد کرتا رہے گا۔اس موقع پر اسکل ڈیویلپمنٹ کمیٹی کے سیکریٹری ثاقب صغیر ، جوائنٹ سیکریٹری فاروق سمیع اور دیگر بھی موجود تھے۔
28