پابندی کے باوجود پرندوں کا شکار، کوریج کرنے پر صحافی تشددکا نشانہ بن گیا۔۔۔ 16

پابندی کے باوجود پرندوں کا شکار، کوریج کرنے پر صحافی تشددکا نشانہ بن گیا۔۔۔

پابندی کے باوجود پرندوں کا شکار جاری، کوریج کرنے والے صحافی پر مبینہ تشدد، موبائل فون اور میڈیا لوگو چھین لیا گیا۔۔ضلع جامشورو کی تحصیل تھانہ بولا خان کے نواحی علاقوں میں پابندی کے باوجود مبینہ طور پر پرندوں کا شکار جاری ہے، جہاں شکار کے لیے جال لگائے جانے کی اطلاع پر کوریج کے لیے پہنچنے والے صحافی کو مبینہ طور پر تشدد اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔تفصیلات کے مطابق نوری آباد کے علاقے میں پرندوں کے شکار کے لیے لگائے گئے جال کی ویڈیو ریکارڈنگ کرنے کے لیے کاش ویب ٹی وی کے رپورٹر سارنگ پالاری موقع پر پہنچے۔ صحافی کے مطابق وہاں موجود بااثر افراد نے مبینہ طور پر اس پر تشدد کیا اور اس کا موبائل فون اور میڈیا کا لوگو بھی چھین لیا۔رپورٹر سارنگ پالاری کا الزام ہے کہ تشدد اور دھمکیوں میں مبینہ طور پر ایک یوسی چیئرمین کا بیٹا بھی شامل تھا، جس نے اسے مبینہ طور پر دھمکیاں دیں اور موبائل فون سمیت میڈیا لوگو چھین لیا۔واقعے کے بعد صحافتی حلقوں کی جانب سے صحافی پر مبینہ تشدد، موبائل فون اور میڈیا لوگو چھیننے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے، جبکہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ضلع جامشورو کی تحصیل تھانہ بولا خان کے نواحی علاقوں میں مبینہ طور پر پرندوں کے شکار کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں