این سی سی آئی اے نے ملک بھر میں سائبر پیٹرولنگ یونٹس فعال کر دیے۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ملک بھر میں سائبر اسپیس کی نگرانی کے لیے سائبر پیٹرولنگ یونٹس فعال کر دیے ہیں، جبکہ جعلی خبروں اور مبینہ ریاست مخالف پروپیگنڈے کی روک تھام کے لیے خصوصی یونٹس بھی قائم کیے گئے ہیں۔این سی سی آئی اے کے ترجمان کے مطابق یہ اقدامات ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے سید علی ناصر رضوی کے پنجاب میں ایجنسی کے مختلف سرکلز کے پانچ روزہ دورے کے دوران زیرِ جائزہ آئے۔ دورے کے دوران ڈی جی نے رپورٹنگ سینٹرز، پولیس اسٹیشنز اور مختلف دفاتر کا معائنہ کیا اور 500 سے زائد شکایت کنندگان سے براہِ راست ملاقاتیں بھی کیں۔ترجمان کے مطابق ڈائریکٹر جنرل نے افسران کو ہدایت کی کہ شکایات کے اندراج اور تصدیق کے نظام کو مزید شہری دوست بنایا جائے اور سائبر کرائم سے متاثرہ افراد کو بروقت ریلیف اور انصاف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔سید علی ناصر رضوی نے کہا کہ این سی سی آئی اے نے جعلی خبروں اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے خلاف ’’زیرو ٹالرنس‘‘ پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور تحقیقات میں میرٹ اور شفافیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔دورے کے دوران ڈی جی این سی سی آئی اے نے مختلف سرکلز میں زیر التوا شکایات اور مقدمات، انویسٹی گیشن برانچ، کمپلینٹ سیل، ایف آئی آر برانچ، ریکارڈ کی دیکھ بھال اور دیگر انتظامی و پیشہ ورانہ امور کا بھی جائزہ لیا۔انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ سائبر کرائم شکایات اور مقدمات کو جلد نمٹایا جائے، تحقیقات کو شفاف اور میرٹ پر مبنی رکھا جائے اور ریکارڈ مینجمنٹ سمیت مجموعی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے۔این سی سی آئی اے کے مطابق ملک بھر میں سائبر پیٹرولنگ یونٹس کو فعال کرنے کا مقصد آن لائن سرگرمیوں اور سائبر اسپیس کی مؤثر نگرانی، غیر قانونی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی نشاندہی اور سائبر جرائم کے خلاف بروقت کارروائی کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔واضح رہے کہ این سی سی آئی اے پاکستان میں سائبر جرائم کی تحقیقات، ڈیجیٹل فرانزک، سائبر سیکیورٹی اور سائبر کرائم سے متعلق قانونی کارروائیوں کی ذمہ دار وفاقی ایجنسی ہے اور اس کا دائرۂ کار ملک کے مختلف علاقوں میں قائم سرکلز تک پھیلا ہوا ہے۔
12
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل