معروف اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو ثبوت این سی سی آئی اے (NCCIA) میں جمع کروائے گئے تھے، قانون کے مطابق انہیں میڈیا پر نہیں لایا جا سکتا تھا لیکن یہاں ہمارا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے، اسی لیے ہم بھی اب ثبوت لے کر سامنے آئے ہیں۔ رمشا اقبال نے کہا کہ اداروں اور قانونی عمل پر موقف مجھے اداروں پر پورا اعتماد تھا کہ قانونی پروسیس چلے گا اور ادارے اپنا کام کریں گے لیکن ہمیں مجبورامیڈیا کے سامنے آنا پڑ رہا ہے۔ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں جا کر دو دو روپے کی فوٹو کاپیاں پیش کی گئیں جبکہ اینکرکے پاس ان دستاویزات کو جج کرنے کی کوئی قانونی اتھارٹی نہیں جو ثبوت این سی سی آئی اے (NCCIA) میں جمع کروائے گئے تھے، قانون کے مطابق انہیں میڈیا پر نہیں لایا جا سکتا تھا لیکن یہاں ہمارا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے، اسی لیے ہم بھی اب ثبوت لے کر سامنے آئے ہیں۔حمزہ حبیب کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی لیکن وہ پیش ہونے کے باوجود تفتیشی افسر ے ابھی تک کال ریکارڈ پیش نہیں کیا، 4ماہ گزرنے کے باوجود تفتیشی افسر نے سی ڈی آر نہیں نکلوائیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کے خلاف مختلف درخواستیں دی گئیں اور 406 کا پرچہ درج کروانے کی کوشش بھی کی گئی جبکہ کورٹ سے ایف آئی آر کے لیے آرڈر بھی نکلوایا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب اپنے گھر کے قریب متعلقہ تھانے میں درخواست دی تو اس کا ڈائری نمبر تک نہیں لگایا گیا۔ان کے اکاؤنٹ سے 90 لاکھ روپے بلال اکبر کو ٹرانسفر کیے گئے، کورٹ میں کہا گیا کہ بلال اکبر ان کا ڈرائیور ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ کیا کر رہا تھا۔
80
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل