ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں صحافیوں کو جدید مہارتیں اپنانا ہوں گی، اختر عباس 10

ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں صحافیوں کو جدید مہارتیں اپنانا ہوں گی، اختر عباس

معروف میڈیا ٹرینراورکنسلٹنٹ اخترعباس نے کہا ہے کہ میڈیا انڈسٹری تیزی سے تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، ایسے میں صحافیوں، لکھاریوں اور شعبہ صحافت سے وابستہ دیگر افراد کو جدید تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کو بہتر بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ روایتی اخبارات، رسائل اور ڈائجسٹس کی جگہ ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحان نے صحافت کے روایتی ڈھانچے کو تبدیل کر دیا ہے، جس کے باعث نئی مہارتیں سیکھنا اور روزگار کے متبادل مواقع تلاش کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔وہ کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر منعقدہ میڈیا انسائٹ سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر کراچی پریس کلب کے سیکرٹری اسلم خان،کے یو جے دستور کے صدر نصراللہ چوہدری،نائب صدر منصور احمد، جوائنٹ سیکریٹری عبدالرحمن، سیکریٹری اطلاعات اظفر عباسی، گورننگ باڈی کے رکن صلاح الدین عباسی، سابق صدور طارق ابوالحسن، ریاض ساگر اور حامدالرحمن، کراچی پریس کلب کے سابق صدر احمدخان ملک، سینئر صحافی عطا محمد تبسم،معین اللہ خان، نصیر احمد، راجہ کامران، عقیل رانا، منظر الٰہی، امجد ارشاد،راﺅعمران، اے کے محسن، جمال خورشید اورتابش کفیلی سمیت دیگر صحافی بھی موجود تھے۔اختر عباس نے کہا کہ میڈیا انڈسٹری کو معاشی مشکلات، ملازمتوں میں کمی اور تنخواہوں کی بروقت عدم ادائیگی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ان حالات میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز پر ذہنی دباو¿ بڑھ رہا ہے، جبکہ روایتی میڈیا اداروں کی بدلتی صورت حال ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کے مستقبل کو بھی متاثر کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صحافت اور اشاعت کے شعبے سے وابستہ افراد کو صرف روایتی طریقہ کار پر انحصار کرنے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو سمجھنا اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنانا ہوگا۔ موجودہ دور میں صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ کامیابی کے لیے مسلسل سیکھنے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔اختر عباس نے پریس کلبوں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پریس کلب محض ملاقاتوں، تقریبات اور سماجی سرگرمیوں کے مراکز نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ انہیں فکری مکالمے، تربیت، باہمی تعاون اور مستقبل کے چیلنجز پر غور و فکر کے مو¿ثر مراکز کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق صحافیوں کی فلاح و بہبود، پیشہ ورانہ تربیت اور باہمی روابط کے فروغ کے لیے پریس کلبوں کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ صحافی بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔انہوں نے ادارہ جاتی ماحول اور پیشہ ورانہ ثقافت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ادارے کی ترقی کے لیے ملازمین کی عزت، صحت مند ماحول، بہتر سہولتوں اور تربیت پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اداروں کی اصل طاقت ان کی عمارتوں اور وسائل میں نہیں، بلکہ وہاں کام کرنے والے افراد، ان کی صلاحیتوں، اقدار اور باہمی احترام میں ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اداروں کو مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور ملازمین کو ایسی مہارتیں سکھانی چاہئیں جو آنے والے وقت میں ان کے لیے مفید ثابت ہوں۔اس موقع پر کراچی پریس کلب کے سیکریٹری اسلم خان نے اختر عباس کی آمد اور میڈیا انسائٹ سیشن میں شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صحافت کو درپیش موجودہ چیلنجز کے تناظر میں ایسے علمی اور تربیتی پروگراموں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ سیشن صحافیوں کو میڈیا کے بدلتے ہوئے منظرنامے کو سمجھنے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر نصراللہ چوہدری نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں کہا کہ صحافی برادری کو معاشی مشکلات، ملازمتوں کے عدم تحفظ اور ڈیجیٹل تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جن پر سنجیدہ مکالمے اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، فلاح و بہبود اور جدید مہارتوں کے فروغ کے لیے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔سیشن کے دوران میڈیا انڈسٹری کی موجودہ صورت حال، روایتی اور ڈیجیٹل صحافت کے تقاضوں، ادارہ جاتی ماحول، پیشہ ورانہ تربیت اور صحافیوں کی فلاح و بہبود سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ صحافیوں اور میڈیا اداروں کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لے کر مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی تیاری کرنا ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں