ڈیجیٹل پلیٹ فارم نکتہ اور اے آر وائی کے درمیان قائم رشتہ ٹوٹ چکا ہے، نکتہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اے آر وائی کی جانب سے یہ رشتہ ختم کیا گیا ہے، نکتہ ملازمین نے عمران جونیئر ڈاٹ کام کو بتایا کہ اے آر وائی سے ڈیل ختم ہونے کی اطلاع پورے دفتر والوں کو معلوم ہے، تاہم اس کا آفیشیل کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا، پپو کا کہنا ہے کہ اے آر وائی پر چلنے والا کامران خان کا شو بھی اب اے آر وائی نے چلانے سے انکار کردیا ہے جس کے بعد اب یہ شو نکتہ پر پیش کیا جارہا ہے۔ پپو کے مطابق پہلے نکتہ ملازمین کی خبریں اے آر وائی پر چلنا بند ہوئیں اس کے بعد کامران خان کا شو آن مائے راڈار کی باری آئی۔۔ پپو کے مطابق کامران خان دس اکتوبر سے چھٹیوں پرتھے جس کے بعد جب وہ واپس آئے تو اس کے بعد سے اے آر وائی پر پروگرام نہیں کیا اور اب وہ نکتہ کے کراچی آفس بھی ریگولر آرہے ہیں۔۔ پپو نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ کامران خان کی ٹیم کو ستمبر اور اکتوبر کی تنخواہ بھی اے آر وائی نے دینی ہے۔۔پپو کا مزید کہنا ہے کہ اس معاملے کا اہم پس منظر یہ ہے کہ 8 مارچ 2026 کو اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک نے باضابطہ طور پر نکتہ کے اکثریتی حصص حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ محض ابتدائی مذاکرات نہیں بلکہ دونوں اداروں کی جانب سے اعلان کردہ کاروباری شراکت تھی۔ اعلان کے مطابق اے آر وائی گروپ نے نکتہ میں اکثریتی ملکیت حاصل کی، جبکہ سینئر صحافی کامران خان کو اے آر وائی نیوز اور نکتہ دونوں کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔نکتہ کے دبئی میں قائم مرکزی دفتر سے سرگرمیاں جاری رکھنے اور اس کے پروگرام On My Radar کو اے آر وائی نیوز پر نشر کرنے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ نکتہ نومبر 2024 میں سینئر صحافی کامران خان کی قیادت میں شروع کیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کو ابتدائی مالی معاونت ملک ریاض کی جانب سے حاصل تھی۔ بعد میں مالی معاونت میں کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث ادارے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ نومبر 2025 میں نکتہ نے 37 ملازمین کو فارغ کیا، جبکہ اس کے بعد بھی ملازمین کی تعداد میں کمی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اے آر وائی کے ساتھ معاہدے کو نکتہ کے لیے مالی اور انتظامی استحکام حاصل کرنے کی ایک کوشش سمجھا جارہا تھا۔اگر دونوں اداروں میں علیحدگی ہوگئی ہے تو اس کے کئی اہم پہلو ہوں گے، جن میں نکتہ کے حصص کی ملکیت، کامران خان کی چیئرمین شپ، ادارے کی مستقبل کی فنڈنگ اور صحافیوں کی ملازمتوں کا تحفظ شامل ہیں۔
109
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل