عاصمہ شیرازی اور عنبر رحیم شمسی کے خلاف آن لائن ہراسانی ، خواتین صحافیوں کی تنظیم کا بھرپور اظہارِ یکجہتی 39

عاصمہ شیرازی اور عنبر رحیم شمسی کے خلاف آن لائن ہراسانی ، خواتین صحافیوں کی تنظیم کا بھرپور اظہارِ یکجہتی

نیٹ ورک آف ویمن جرنلسٹس فار ڈیجیٹل رائٹس نے معروف خواتین صحافیوں عاصمہ شیرازی اور عنبررحیم شمسی سمیت سوشل میڈیا پر ہراسانی، تضحیک اور صنفی بنیادوں پر حملوں کا سامنا کرنے والی دیگر خواتین صحافیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف جاری آن لائن مہمات کی شدید مذمت کی ہے۔ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تنظیم نے خاص طور پر ایسے مرد اور خواتین صحافیوں کے کردار پر تشویش ظاہر کی جو اپنے ہی پیشہ ور ساتھیوں کے خلاف توہین آمیز مواد پھیلانے یا اسے مزید مقبول بنانے میں مبینہ طور پر حصہ لیتے ہیں۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ خواتین صحافیوں کو نشانہ بنانے کے لیے بعض اوقات ان کا نام براہِ راست استعمال نہیں کیا جاتا، تاہم ایسے اشارے، الفاظ اور حوالہ جات دیے جاتے ہیں جن سے متعلقہ صحافی کی شناخت واضح ہوجاتی ہے۔ تنظیم کے مطابق کسی خاتون صحافی کا نام ظاہر نہ کرنا اس کے خلاف تضحیک آمیز مہم میں حصہ لینے والوں کو ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔
بیان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہراسانی میں ملوث اکاؤنٹس کی پوسٹس کو دوبارہ شیئر کرنے اور ان پر طنزیہ تبصرے کرنے کے رجحان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔تنظیم کے مطابق بعض صحافی ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پوسٹس کو بھی دوبارہ شائع کرتے ہیں جنہیں متاثرہ خواتین صحافی پہلے ہی ہراسانی کی وجہ سے بلاک کرچکی ہوتی ہیں۔ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں نہ صرف توہین آمیز مواد مزید لوگوں تک پہنچتا ہے بلکہ متاثرہ صحافیوں کی جانب سے اپنے تحفظ کے لیے اختیار کی گئی ڈیجیٹل حدود بھی غیر مؤثر ہوجاتی ہیں۔نیٹ ورک نے خبردار کیا کہ مذہبی نوعیت کے الزامات، خواتین کے خلاف نفرت انگیز زبان اور ذاتی کردار پر حملوں پر مشتمل پوسٹس کو آگے پھیلانا بھی ہراسانی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، خواہ توہین آمیز الفاظ اصل میں کسی دوسرے شخص نے لکھے ہوں۔تنظیم نے کہا کہ بعض افراد خواتین صحافیوں کی پیشہ ورانہ شکایات کو محض صنفی رعایت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں، ان کے لباس پر اعتراضات اٹھاتے ہیں یا ان کی پیشہ ورانہ دیانت داری کے بارے میں غیر مصدقہ الزامات اور اشارے دیتے ہیں۔ اس طرح کا رویہ خواتین کے خلاف پہلے سے موجود تعصبات کو مزید تقویت دیتا ہے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ اس نوعیت کے حملے صرف مردوں کی جانب سے ہی نہیں بلکہ بعض خواتین کی جانب سے بھی سامنے آسکتے ہیں، اور کسی خاتون کا ایسے رویے میں ملوث ہونا اسے قابلِ قبول نہیں بناتا۔تنظیم نے یہ بھی واضح کیا کہ صحافیوں کی پیشہ ورانہ کارکردگی، آرا، مالی معاوضوں اور ادارہ جاتی فیصلوں پر سوال اٹھانا ایک جائز عمل ہے، تاہم اس تنقید کی بنیاد ٹھوس شواہد اور حقائق پر ہونی چاہیے۔ کسی بھی صحافی کی ذاتی تذلیل، کردار کشی یا صنفی شناخت کو نشانہ بنانا پیشہ ورانہ تنقید کے دائرے میں نہیں آتا۔ نیٹ ورک آف ویمن جرنلسٹس فار ڈیجیٹل رائٹس نے اعلان کیا ہے کہ تنظیم اپنے آئندہ بیان میں ان صحافیوں کے نام اور ان کے طرزِ عمل سے متعلق شواہد سامنے لائے گی جن پر خواتین صحافیوں کے خلاف آن لائن ہراسانی کو فروغ دینے یا اس میں معاونت کرنے کے الزامات ہیں۔اس مشترکہ بیان پر ملک کی متعدد معروف خواتین صحافیوں اور میڈیا شخصیات نے دستخط کیے ہیں، جن میں نسیم زہرہ، بینظیر شاہ، خاری جلیل، فریحہ عزیز، عافیہ سلام، منیزے جہانگیر، غریدہ فاروقی، نادیہ نقی اور دیگر صحافی شامل ہیں۔ عاصمہ شیرازی بھی بیان پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہیں۔دوسری جانب عاصمہ شیرازی نے تنظیم کی جانب سے اظہارِ یکجہتی کا خیرمقدم کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ خواتین صحافیوں کی حمایت کو عملی احتساب میں تبدیل ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ میڈیا ادارے اور پیشہ ورانہ تنظیمیں نہ صرف گمنام ٹرولز بلکہ ان بااثر افراد اور ساتھی صحافیوں کو بھی جواب دہ بنائیں جو آن لائن ہراسانی کو فروغ دینے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جنوری 2025 میں بھی نیٹ ورک آف ویمن جرنلسٹس فار ڈیجیٹل رائٹس نے عاصمہ شیرازی کے خلاف آن لائن ہراسانی اور صنفی بنیادوں پر غلط معلومات پھیلانے کی مبینہ مہمات کی مذمت کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں