پاکستان ریلوے نے نجی کمپنیوں کے زیر انتظام چلنے والی آؤٹ سورس ٹرینوں میں بھی صحافیوں، بزرگ شہریوں، معذور افراد، ریلوے ملازمین اور دیگر اہل مسافروں کو مقررہ قواعد کے مطابق رعایتی ٹکٹوں، ریلوے پاسز اور پی ٹی اوز کی سہولت فراہم کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں ریلوے حکام نے متعلقہ نجی کمپنیوں کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے تمام جائز سفری رعایتوں پر فوری عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔پاکستان ریلوے ہیڈکوارٹرز لاہور کے دفتر چیف کمرشل منیجر کی جانب سے جاری مراسلے میں نجی ٹرین آپریٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پاکستان ریلوے کے قواعد و ضوابط اور اپنے معاہدوں کی شرائط کے مطابق اہل مسافروں کو تمام منظور شدہ سفری مراعات فراہم کریں۔
مراسلے کے مطابق پاکستان ریلوے نے ایس جمیل اینڈ کمپنی، زیڈ کے بی۔بی ٹی جوائنٹ وینچر، اے اے انٹرپرائزز، پرائم ریل اور لاثانی کارگو سمیت متعلقہ نجی آپریٹرز کو واضح کیا ہے کہ آؤٹ سورسنگ کے باوجود اہل مسافروں کی قانونی اور معاہدے کے تحت حاصل سفری سہولتیں ختم نہیں کی جاسکتیں۔ریلوے حکام نے اپنے مراسلے میں نجی کمپنیوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کی شق 5.15 کا خصوصی حوالہ دیا ہے، جس کے تحت ریلوے ملازمین کے سفری پاسز، ریٹائرمنٹ کے بعد جاری کیے جانے والے پاسز، ڈیوٹی اور پریولیج ٹکٹ آرڈرز (پی ٹی اوز)، خصوصی پاسز اور دیگر منظور شدہ رعایتیں فراہم کرنا متعلقہ آپریٹرز کی ذمہ داری ہے۔اس حکم کے تحت صحافیوں، بزرگ شہریوں، معذور افراد اور دیگر مستحق مسافروں کو بھی پاکستان ریلوے کی موجودہ پالیسی کے مطابق رعایتیں دی جائیں گی۔ تاہم رعایت کا حصول متعلقہ مسافر کی اہلیت، ضروری دستاویزات اور نافذ العمل قواعد سے مشروط ہوگا۔ریلوے حکام کے مطابق نجی کمپنیوں کو اس سے قبل بھی متعدد بار ان سفری سہولتوں کی فراہمی کی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں، تاہم اس کے باوجود بعض آپریٹرز کی جانب سے رعایتی ٹکٹوں اور پاسز کو قبول نہ کرنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان سٹیزن پورٹل اور وفاقی محتسب کے دفاتر کے ذریعے متعدد مسافروں نے شکایات درج کرائی ہیں کہ نجی انتظامیہ کے تحت چلنے والی ٹرینوں میں انہیں قواعد کے مطابق سفری رعایتیں فراہم نہیں کی جارہیں۔ان شکایات میں بزرگ شہریوں، خصوصی افراد، صحافیوں، ریلوے ملازمین اور دیگر اہل مسافروں کے مسائل شامل ہیں، جنہیں بعض مواقع پر رعایتی ٹکٹ یا سفری پاس استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریلوے حکام نے رعایتی ٹکٹوں کے لیے مختص کوٹے کے حوالے سے بھی وضاحت کی ہے۔ مراسلے کے مطابق متعلقہ رعایتی کوٹہ ٹرین کی روانگی سے 48 گھنٹے قبل ختم ہوجاتا ہے، لہٰذا مسافروں کو اس مقررہ مدت اور بکنگ کے متعلقہ قواعد کو مدنظر رکھنا ہوگا۔اس شق کا مطلب یہ ہے کہ رعایتی کوٹے کی دستیابی کے لیے مخصوص وقت کی پابندی ضروری ہے، جبکہ دیگر سفری پاسز اور سہولتوں کا استعمال ان پر لاگو الگ قواعد کے مطابق ہوگا۔پاکستان ریلوے نے مسافروں کو آگاہ کیا ہے کہ اگر کوئی نجی ٹرین آپریٹر یا متعلقہ عملہ قواعد کے مطابق دستیاب رعایت فراہم کرنے سے انکار کرے تو متاثرہ مسافر متعلقہ ریلوے حکام سے رجوع کرسکتا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان سٹیزن پورٹل کے ذریعے بھی شکایت درج کرائی جاسکتی ہے، جبکہ اس نوعیت کی شکایات وفاقی محتسب کے دفتر تک بھی پہنچتی رہی ہیں۔
41