کمیشن فار پروٹیکشن آف جرنلسٹس کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار۔۔۔۔ 26

کمیشن فار پروٹیکشن آف جرنلسٹس کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار۔۔۔۔

کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای)کی پریس فریڈم اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر میں صحافتی آزادی کو درپیش چیلنجز، پیکا ایکٹ کے تحت کارروائیوں، صحافیوں کو ہراساں کرنے، انٹرنیٹ کی بندش، میڈیا ورکرز کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے قائم کمیشن فار پروٹیکشن آف جرنلسٹس کی کارکردگی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین مقصود یوسفی نے کی جبکہ اس موقع پر سیکریٹری جنرل سی پی این ای غلام نبی چانڈیو، فنانس سیکریٹری عارف بلوچ بھی موجود تھے، اجلاس میں ڈاکٹر توصیف احمد خان، ناصرحسین اور مائرہ عمران نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ صحافتی آزادی کے تحفظ اور میڈیا سے وابستہ افراد کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ صحافتی تنظیموں کو مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد ہونا چاہیے۔اجلاس کے شرکا نے پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں، گرفتاریوں، مقدمات اور مبینہ ہراسانی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کے حق سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔ شرکا نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ صحافتی آزادی سے متعلق واقعات کو مستند شواہد کے ساتھ ریکارڈ کیا جائے اور ان کی مناسب جانچ پڑتال کے بعد متعلقہ فورمز پر اٹھایا جائے۔اجلاس میں وفاقی سطح پر قائم صحافیوں کے کمیشن فار پروٹیکشن آف جرنلسٹس کی کارکردگی اور خودمختاری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ شرکا نے کہا کہ کمیشن کو محض ایک انتظامی محکمے کے طور پر چلانے کے بجائے آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تاکہ وہ صحافیوں کو درپیش خطرات، شکایات اور تحفظ سے متعلق مسائل پر موثر کارروائی کر سکے۔ اس سلسلے میں ضلعی اور صوبائی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کے نظام کو فعال بنانے اور متعلقہ حکام کے سامنے مسائل اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس میں پیمرا کی جانب سے سائبر پٹرولنگ یونٹس کو فعال کرنے سے متعلق ہدایات، تصدیق شدہ معلومات کی اشاعت کے حوالے سے جاری ہدایات اور انٹرنیٹ کی بندش یا سست رفتار کے باعث صحافتی سرگرمیوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں پر بھی گفتگو کی گئی۔ شرکا نے کہا کہ معلومات کی ترسیل اور صحافتی فرائض کی انجام دہی کے لیے قابلِ اعتماد رابطوں کی دستیابی ضروری ہے۔ شرکا نے میڈیا کی ترسیل اور تقسیم سے وابستہ افراد کے مسائل کو اہم قرار دیتے ہوئے ان کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں میڈیا ورکرز کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور پروگراموں کی بندش کے بعد عملے کو درپیش مالی مشکلات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ میڈیا اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں اور دیگر کارکنوں کے معاشی مسائل کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے اور متعلقہ اداروں کو ان معاملات کے حل کے لیے موثر اقدامات کرنے چاہییں۔اجلاس میں بین الاقوامی میڈیا کے لیے کام کرنے والے پاکستانی صحافیوں کو درپیش کلیئرنس اور دیگر انتظامی تقاضوں کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کا معاملہ بھی زیرِ غور آیا۔ شرکا نے اس حوالے سے سامنے آنے والے تحفظات کا جائزہ لینے اور متعلقہ امور کو مناسب فورمز پر اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ صحافتی آزادی سے متعلق سامنے آنے والے مسائل اور تجاویز کو تحریری شکل دی جائے گی اور انہیں سی پی این ای کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ان سفارشات کی بنیاد پر ملک گیر سطح پر صحافیوں کے تحفظ، آزادی اظہار اور صحافتی اداروں کو درپیش مسائل کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔سی پی این ای کی پریس فریڈم اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی نے صحافتی آزادی، آزادی اظہار اور صحافیوں کے تحفظ سے متعلق معاملات کی موثر نگرانی اور ان کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے اور مشاورت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں