ملک بھر کے صحافیوں،میڈیاورکرز کو وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم کے تحت آسان قرضے فراہم کرنے کی سفارش۔۔۔۔۔ 15

ملک بھر کے صحافیوں،میڈیاورکرز کو وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم کے تحت آسان قرضے فراہم کرنے کی سفارش۔۔۔۔۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی نے وفاقی حکومت سے سفارش کی ہے کہ ملک بھر کے پریس کلبوں سے وابستہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم کے تحت آسان شرائط پر رہائشی قرضوں کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ صحافتی برادری کو درپیش رہائش کے مسائل کے حل میں مدد مل سکے۔سینیٹ سیکرٹریٹ کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ذیلی کمیٹی کا تیسرا اور آخری اجلاس 20 اکتوبر کو پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں کنوینئر سینیٹر سید وقار مہدی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے رکن سینیٹر جان محمد، متعلقہ سرکاری اداروں کے حکام اور صحافیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کے ملازمین کی ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) کے تحت صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے مختص پلاٹوں اور فلیٹس کی الاٹمنٹ، اس عمل میں پیش رفت اور زیر التوا معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سید وقار مہدی نے سفارش کی کہ وزیراعظم ملک بھر کے پریس کلبوں سے منسلک صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو رہائشی قرضوں کی اسکیموں سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی رہائشی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے گھروں کے حصول یا تعمیر کے لیے مالی سہولت حاصل کرسکیں۔
اجلاس میں صحافیوں کو سرکاری ہاؤسنگ اسکیموں کے تحت پلاٹوں اور فلیٹس کی الاٹمنٹ میں تاخیر کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صحافیوں کو آخری مرتبہ تقریباً دو دہائیاں قبل پلاٹ الاٹ کیے گئے تھے، جس کے بعد ان کی رہائشی ضروریات اور زیر التوا معاملات کے حل کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔
کمیٹی کے کنوینئر نے بتایا کہ انہیں اب تک پلاٹ حاصل کرنے والے صحافیوں کی حتمی فہرست موصول ہوچکی ہے۔ تاہم صحافیوں کے نمائندوں نے واضح کیا کہ فراہم کردہ فہرست ڈرائیو ٹو (Drive-II) سے متعلق ہے، جبکہ بہارہ کہو میں ڈرائیو ون (Drive-I) کے تحت پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے معاملات تاحال توجہ طلب ہیں۔ سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ بہارہ کہو کے معاملے کو وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے ساتھ اٹھایا جائے گا تاکہ اس پر مزید پیش رفت ممکن بنائی جاسکے۔
اجلاس میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار کو شفاف بنانے کے لیے بھی اہم سفارشات پیش کی گئیں۔ سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ صحافیوں کی وہ فہرستیں جو پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے لیے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو بھجوائی گئی ہیں، ان کی جلد از جلد تصدیق کی جائے تاکہ کسی بھی مستحق فرد کو ایک سے زیادہ پلاٹ الاٹ ہونے کے امکانات سے بچا جاسکے۔
ذیلی کمیٹی نے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے ایک خصوصی گریوینس کمیٹی قائم کرنے کی بھی سفارش کی، جو پلاٹوں اور فلیٹس کی الاٹمنٹ سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لے سکے۔اجلاس میں صحافیوں کے نمائندوں کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کو بھی متعلقہ ہاؤسنگ اسکیموں کے مستفید ہونے والوں کی فہرست میں شامل کیا جائے تاکہ ادارے سے وابستہ اہل صحافیوں کو بھی رہائشی سہولیات کے حصول کے مواقع میسر آسکیں۔وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے حکام نے ذیلی کمیٹی کو سابقہ سفارشات پر عملدرآمد اور مختلف متعلقہ محکموں کی جانب سے کی جانے والی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی۔ اس موقع پر صحافیوں کے نمائندوں نے ذیلی کمیٹی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے درخواست کی کہ زیر التوا مسائل کے مکمل حل تک اس کی مدت کار میں توسیع کی جائے۔
سینیٹر سید وقار مہدی نے صحافیوں کی فلاح و بہبود اور رہائشی مسائل کو متعلقہ حکام کے سامنے اٹھانے میں سینیٹر جان محمد کی خدمات کو بھی سراہا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے رہائشی مسائل کا حل متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطوں اور عملی اقدامات سے ممکن بنایا جائے۔ دوسری جانب راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) نے صحافیوں کے دیرینہ رہائشی مسائل کو پارلیمانی سطح پر اٹھانے اور پلاٹوں کے ساتھ گھروں کی تعمیر کے لیے قرضہ سہولت فراہم کرنے کی سفارش پر سینیٹر سید وقار مہدی کی کوششوں کو سراہا ہے۔ یونین کے وفد نے سینیٹر سے ملاقات کرکے صحافی برادری کے مسائل اجاگر کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
صحافتی حلقوں کے لیے ان سفارشات کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ مجوزہ سہولت کے ذریعے صرف سرکاری ہاؤسنگ اسکیموں میں پلاٹ حاصل کرنے والے صحافی ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے پریس کلبوں سے وابستہ اہل صحافی اور میڈیا ورکرز بھی رہائشی قرضوں کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے، بشرطیکہ حکومت اس تجویز کی منظوری دے اور اس کے لیے واضح اہلیت اور قرضہ فراہمی کا طریقہ کار متعین کرے۔واضح رہے کہ سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے وزیراعظم ہاؤسنگ قرضہ سہولت کی سفارش کی گئی ہے؛ ابھی اس سفارش کی حکومتی منظوری، قرضے کی مخصوص رقم، شرحِ منافع، واپسی کی مدت یا صحافیوں کے لیے درخواستوں کے آغاز کا کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں