انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد سہیل چوہدری نے وفاقی دارالحکومت میں پولیس نظام میں اصلاحات، ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور محکمہ پولیس سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کرپٹ افسران کی چھان بین جاری ہے، جبکہ ایسے پولیس افسران جنہیں جیل جانا پڑا ہو، انہیں ایس ایچ او تعینات نہیں کیا جائے گا۔ پنجاب کی طرز پر اسلام آباد میں بھی کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل کے فوری حل اور پولیس و صحافی برادری کے درمیان مؤثر رابطے کے لیے نیشنل پریس کلب اور اسلام آباد پولیس پر مشتمل لائژن کمیٹی قائم کی جائے گی۔ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کا حل پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، شہر میں ناکوں کی تعداد کم کر دی گئی ہے جبکہ زیرو پوائنٹ ناکہ بھی جلد ختم کر دیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پریس کلب کے فنانس سیکریٹری عابد عباسی کی سربراہی میں پریس کلب کر عہدے داروں و سینئر صحافیوں کے نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں وفاقی دارالحکومت میں امن و امان، ٹریفک کی صورتحال، پولیس کے طرزِ عمل، عوامی شکایات، صحافیوں کو درپیش مسائل اور پولیس اصلاحات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چائینز کے ساتھ ہونی والی ڈکیتی کی واردات میں ملوث اہلکاروں کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔ انہوں صحافیوں کی نشاندہی پر ٹریفک پولیس کے پاس ناکارہ ہونے والے سپیڈ کیمروں پر نوٹس لیتے ہوئے سی ٹی او کائنات خان سے رپورٹ طلب کرلی ۔آئی جی سہیل چوہدری نے کہا کہ پولیس کے خلاف شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے شکایات سیل کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے، جبکہ سیف سٹی منصوبے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ پولیس میں بدعنوانی اور غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے اور کرپٹ افسران کی اسکروٹنی جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں تعینات ہونے والے بعض پولیس افسران کے پاس موجود اضافی نفری اور گاڑیاں واپس لی جا رہی ہیں تاکہ دستیاب وسائل کو ضرورت کے مطابق استعمال کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس فورس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اہل اور بہترین افسران کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔صغیر چوہدری نے صحافیوں کے مسائل سے متعلق بتایا کہ رات کو ڈیوٹی سے واپس گھر جانے والے صحافیوں بلخصوص وڈیو جرنلسٹ کو پولیس بلاوجہ ناکوں پر روک کر تنگ کرتی ہے جس پر آئی جی نے یقین دہانی کروائی کہ صحافیوں اور کسی شہری کو اب پولیس تنگ یا حراساں نپیں کرئے گی۔آئی جی سہیل چوہدری نے کہا کہ شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ فیض آباد کے مقام پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ غیر ضروری ناکوں میں کمی کی گئی ہے۔ زیرو پوائنٹ ناکہ ختم کرنے کا اقدام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، جس کا مقصد شہریوں کی آمدورفت کو آسان بنانا ہے۔
سہیل چوہدری نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو ہراسانی سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں کو بہتر پولیسنگ کی فراہمی، شکایات کے فوری ازالے اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر بھی توجہ دی جا رہی ہے ملاقات میں صحافیوں نے پولیس سے متعلق عوامی مسائل اور پیشہ ورانہ امور کی نشاندہی کی، جس پر آئی جی اسلام آباد نے مسائل کے حل کے لیے رابطوں کو مؤثر بنانے کی یقین دہانی کرائی وفد میں بیورو چیف اے بی این زمان مغل، سابق فنانس سیکریٹری نیشنل پریس کلب و سینئر تجزیہ کار ایم نیوز صغیر چوہدری، ممبر گورننگ باڈی عامر رفیق بٹ، عثمان خان، فرح ربانی، نثار احمد، سردار خان یوسفزئی اور داؤد شامل تھے۔ملاقات کے دوران پولیس اور صحافی برادری کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے اور شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔ صحافیوں کے وفد نے سہیل چوہدری کو اسلام آباد آئی جی تعینات ہونے پر مبارکباد پیش کی۔۔
13