پی ٹی وی کے ملازمین اگست 2026 سے رہائشی کرائے کی مد میں ملنے والی مقررہ مالی سہولت (رینٹل سیلنگ) کی ادائیگی سے محروم ہیں۔پی ٹی وی کے ملازمین اگست 2026 سے رینٹل سیلنگ کی مبینہ عدم ادائیگی کے باعث مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ ملازمین کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے پہلے انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ رہائشی کرائے کی مد میں واجب الادا رقوم چیکوں کے ذریعے ادا کردی جائیں گی، تاہم وعدوں کے باوجود ادائیگیاں نہ ہونے پر متاثرہ ملازمین نے انصاف کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ملازمین کے بیان کردہ مؤقف کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران پی ٹی وی انتظامیہ نے مالی وسائل کی کمی کو ادائیگی میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے واجبات ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی، لیکن اس کے بعد سے نہ تو ادائیگیوں کا کوئی واضح شیڈول سامنے آیا اور نہ ہی متاثرہ ملازمین کو واجبات کی فراہمی سے متعلق کوئی اطمینان بخش پیش رفت بتائی گئی۔متاثرہ ملازمین نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر حکومت اور اس کے ماتحت اداروں کے پاس کنٹریکٹ پر تعینات بعض افراد کو لاکھوں روپے ماہانہ معاوضے دینے کے وسائل موجود ہیں تو مستقل ملازمین کے رہائشی کرائے جیسے بنیادی مالی استحقاق کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر کیوں کی جارہی ہے؟
ملازمین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، مکانات کے کرایوں اور دیگر گھریلو اخراجات کے باعث رینٹل سیلنگ کی بروقت ادائیگی ان کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق ادائیگیوں میں تاخیر نہ صرف معاشی دباؤ میں اضافہ کررہی ہے بلکہ ملازمین میں احساسِ محرومی اور انتظامیہ پر عدم اعتماد کو بھی جنم دے رہی ہے۔
دوسری جانب پی ٹی وی کی مالی صورتحال پہلے ہی پارلیمانی سطح پر زیر بحث آچکی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے 2 جنوری 2026 کو پی ٹی وی کی مالی مشکلات اور متبادل آمدنی کے مؤثر منصوبے کی عدم موجودگی پر تشویش ظاہر کی تھی۔ کمیٹی نے ادارے کے اخراجات، ملازمین کی تنخواہوں کی مستقل ادائیگی اور مالی بحران کے اسباب کا جائزہ لینے کے لیے ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔ اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے 15 جنوری 2026 کو پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی وی ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وزارت کے پاس ضروری مالی وسائل موجود ہیں۔ تاہم ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی اور رینٹل سیلنگ کے واجبات الگ نوعیت کے معاملات ہیں۔ پی ٹی وی کے مالی معاملات پر سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے ادارے کو 13 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی، جس کی سہ ماہی بنیادوں پر فراہمی کا منصوبہ بنایا گیا۔ یہ رقم ادارے کے آپریشنل اخراجات، تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے مختص کی گئی تھی۔ اس صورتحال میں ملازمین کے رینٹل سیلنگ واجبات کی ادائیگی کے لیے فنڈز کی دستیابی اور ترجیحات سے متعلق مزید وضاحت ضروری سمجھی جارہی ہے۔ اسی طرح پی ٹی وی کے مالیاتی نظم و نسق پر سامنے آنے والی ایک آڈٹ رپورٹ سے متعلق خبر میں بعض کنٹریکٹ اینکرز کو کی جانے والی مجموعی طور پر 8 کروڑ 47 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگیوں پر اعتراضات رپورٹ کیے گئے تھے۔ یہ آڈٹ اعتراضات موجودہ رینٹل سیلنگ تنازعے سے الگ ہیں، تاہم ان سے ادارے کی مالی ترجیحات اور کنٹریکٹ تقرریوں پر پہلے سے جاری بحث کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
ملازمین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا ان کے واجبات کی عدم ادائیگی محض مالی بحران کا نتیجہ ہے یا ادارے کی مالی ترجیحات میں مستقل ملازمین کے حقوق کو مناسب اہمیت نہیں دی جارہی؟ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں کنٹریکٹ ملازمین کے بھاری معاوضوں اور دیگر اخراجات کو ترجیح دینے کے باعث ان کی جائز ادائیگیاں تو مؤخر نہیں کی جارہیں۔ تاہم اس خدشے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات بھی 3 ستمبر 2026 کے اجلاس میں میڈیا کارکنوں کی تنخواہوں اور مالی واجبات کی ادائیگی میں تاخیر پر تشویش ظاہر کرچکی ہے۔ کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سرکاری اداروں کے مالی واجبات کو بنیاد بنا کر میڈیا کارکنوں کو مشکلات کا شکار نہیں کیا جانا چاہیے اور ان کے زیر التوا واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
متاثرہ ملازمین نے وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات، سیکرٹری اطلاعات، پی ٹی وی بورڈ آف ڈائریکٹرز اور متعلقہ پارلیمانی کمیٹیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اگست 2026 سے رینٹل سیلنگ کی مبینہ عدم ادائیگی کا فوری نوٹس لیا جائے، زیر التوا واجبات کی تفصیلات سامنے لائی جائیں اور ادائیگیوں کے لیے واضح اور قابلِ عمل شیڈول جاری کیا جائے۔ملازمین نے مزید مطالبہ کیا کہ پی ٹی وی کے مستقل اور کنٹریکٹ ملازمین پر ہونے والے اخراجات کی شفاف تفصیلات بھی سامنے لائی جائیں تاکہ مالی وسائل کی تقسیم اور ادائیگیوں میں تاخیر کی حقیقی وجوہات واضح ہوسکیں۔متاثرہ ملازمین کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر قومی نشریاتی ادارے کے دیگر انتظامی اور کنٹریکٹ اخراجات پورے کیے جاسکتے ہیں تو مستقل ملازمین کے رہائشی کرایوں کی ادائیگی کو مسلسل مؤخر رکھنے کا جواز کیا ہے؟
12