تحریر: قذافی بٹ۔۔۔
آج کل کی رپورٹنگ بہت آسان ہوگئی ہے بلکہ میں تو کہونگا کہ اب رپورٹنگ رہی ہی نہیں،، اور اسکی بنیادی ذمے داری کسی اور پر نہیں خود رپورٹنگ کرنے والوں پر عائد ہوتی ہے اور اسی لیے چیلنز میں سے سب سے پہلا نشانہ رپورٹرز ہی بن رہے ہیں۔۔
اب آپ کہیں گے کہ بھائی صاحب آپ نے تو رپورٹنگ چھوڑ دی ہماری پیچھے کیوں پڑ گئے ہو؟
پہلی بات میں رپورٹنگ سے ریٹائر ضرور ہوا ہوں پر میری خبر نکالنے والی حس ابھی مری نہیں۔ جو کام اب کررہا ہوں بظاہر لوگوں کی نظر میں بہت سکون طلب نظر آتا ہوگا لیکن جتنا یہ کام پرسکون نظر آتا ہے اتنا ہی خطرناک اور دماغ کی دہی بنانے والا بھی ہے ایک غلطی کا خمیازہ پورے چینل کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ بہرحال یہ الگ بحث ہے۔ اصل مدعے پر آتا ہوں۔
تو بھائیوں اور بہنوں (بہنیں اس لیے کہا کہ کچھ میری بہنیں بھی رپورٹنگ سے وابستہ ہیں) آپ لوگ خود اسکے ذمے دار اس لیے ہیں کہ اب آْپ لوگ خبر کی تلاش میں دفاتر سے باہر نکلتے ہی نہیں۔۔اور اگر نکلتے بھی ہیں تو صرف کوئی پریس کانفرنس کی کوریج کرنے کے لیے بلکہ اب تو وہاں پر بھی نہیں جاتے،،، کیمرہ مین پر حکم چلا دیتے ہیں پہنچ جا وہاں پر اور جب شروع ہو تا بتا دینا۔۔۔۔ اسکے بعد جو واٹس ایپ گروپ بنے ہوئے ہیں ان میں نا جانے والے جنکی تعداد درجنوں میں ہوتی ہے " کڑمس "ڈال دیتے ہیں ان ایک دو دوستوں کو جو وہاں موجود ہوتے ہیں۔۔ حکم نادر شاہی سنا دیا جاتا ہے کہ ٹیکرز ساتھ ساتھ دیتے جاو اور وہ بیچارے ٹیکرز دیتے جاتے ہیں۔ کچھ دوست ایسے بھی جو پریس کانفرنس اٹینڈ کرنے چلے بھی جاتے ہیں لیکن ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہتے ہیں اور اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ ساتھ والا ٹیکرز لکھ کر سب سے پہلے اسے دے پھر گروپ میں ڈالے۔ حالانکہ بھائی صاحب آپکے ہاتھوں پر مہندی تو لگی نہیں کہ ٹیکرز نا لکھ سکو۔ اسکے بعد کا مرحلہ آتا ہے خبر یا پیکج کا ۔۔ ایک بندہ خبر یا پیکج بناتا ہے اور سب مہان رپورٹرز اٹھا لیتے ہیں اور پڑھے بغیر اپنے اپنے دفاتر فائل بھی کردیتے ہیں بھلا اس خبر یا پیکج میں بنانے والا کا نام ہی کیوں نا لکھا ہو یا گالی ہی کیوں نا لکھ دی گئی ہو اسے بھی ختم کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔۔
کسی ایونٹ پر جاکر خبر نکالنے کا رجحان تو ویسے ہی ختم ہوچکا ہے ایکسکلوزو کیا نکالیں گے۔۔۔ اور اگر غلطی سے کوئی بڑی خبر نکال بھی لے تو اسکے بعد اس رپورٹر کا جینا باقی محال کردیتے ہیں کہ بھائی ہمیں کیوں نہیں بتایا؟ ہماری نوکریوں کے پیچھے پڑ گئے ہو۔
پھر کہتے ہیں کہ رپورٹرز کو چینلز سے نکالا جارہا ہے،، نوکری کسی کی بھی نہیں جانی چاہیے لیکن کچھ خود سے بھی خیال کرنا چاہیے فیلڈ میں جاو ادھر ادھر منہ ماری کرو ،،پاویں " ٹمکیری " ہی بنا لو جیسے کہ کچھ دوست بناتے ہیں جو رپورٹنگ سے نکل کر اپنی طرف سے بڑے انویسٹی گیشن رپورٹر نما اینکر بنے ہوئےہیں ۔ پریس کانفرنس کی خبر میں سے بھی خبر نکل سکتی ہے اگر نکالنا چاہو،، ویسے تو ہماری اسانمنٹ ڈیسک پر بھی مہان بیٹھے ہیں انہیں بھی صرف روٹین کی خبر چاہیے ہوتی ہے ویسے بھی اب سیاسی جماعتیں اتنی ہوشیار ہوگئیں ہیں کہ وہ کوئی خبر ہو تو وہ ڈائریکٹ اسانمنٹ ہیڈ یا بیورو چیف یا نیوز ڈائریکٹر کو بھجوا دیتی ہے۔
بہرحال اگر آپ کہیں گے تو میں اپنے دور کی کئی مثالیں دے سکتا ہوں۔۔ فیلڈ میں جتنی دیر بھی رہا اپنی ٹانگوں اور ذہن کو سکون نہیں دیا۔
سکون تو ویسے اب بھی نہیں ہے۔۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس فضول جنجال میں سے نکل گیا ہوں۔ بہرحال سوچنا ضرور۔۔ لیکن اس سے پہلے مجھے کوسنا بھی ضرور اس کڑوے سچ کے لیے !!!!( قذافی بٹ)
15