حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے صدر عرفان آرائیں، جنرل سیکریٹری امجد اسلام، سینئر نائب عاشق ساند، نائب صدر عمران ملک، خازن ساجد آرائیں، جوائنٹ سیکریٹری راناحمبل راجپوت، اراکین گورننگ باڈی جاوید چنہ، غلام قادر توصیفی، آفتاب رند، شبیر نظامانی، مبین مگسی، یامین قریشی، عدیل عباسی، اُسامہ کوٹی اور دیگر ممبران نے صحافی امتیاز چانڈیو کیخلاف حیدرآباد کے جی او آر تھانے میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے اسسٹنٹ سیکریٹری محمد مصطفی کی مدعیت میں دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں میں جس طرح کی لوٹ مار اور کرپشن کی جارہی ہے اس کے حوالے سے اگر چیزیں آشکار کی جائیں تو پھر جھوٹے مقدمات درج کئے جاتے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک میں آزادی رائے کا مکمل طورپر گلا گھونٹ دیا گیا ہے ، انہوں نے کہاکہ اس طرح کی صورتحال کو ماضی میں دور آمریت میں بھی نہیں ہوتی تھی جو کچھ اب جمہوری دور میں ہورہا ہے، صحافیوں کیخلاف جھوٹے مقدمات درج کئے جانا معمول بن گیا ہے ، ادارے اور حکومت بجائے کرپٹ عناصر کیخلاف کارروائی کرتے ان کرپٹ لوگوں کو بے نقاب کرنے والوں کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صحافیوں کے ساتھ کئے جانے والے اس طرح کے ظالمانہ سلوک پر صحافیوں کی تمام یونینوں کو مل کر مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔
