پپو نے انکشاف کیا ہے کہ سنو نیوز شدید مالی بحران کا شکار ہوگیا ہے جس کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ چینل کے اخراجات میں نصف کی کمی کی جائے، اس سلسلے میں سب سے پہلے ملازمین کو برطرف کیا جائے گا۔۔ پپو کے مطابق پچاس فیصد ملازمین کو لاہور،اسلام آباد، کراچی سمیت دیگر شہروں سے نکالا جائے گا، اس حوالے سے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔۔ پپو کا مزید کہنا ہے کہ جمعرات تیس اپریل کو مارچ کی سیلری دیئے جانے کا امکان ہے کیوں کہ جمعہ کو یکم مئی اور مزدوروں کا عالمی دن بھی ہے جس کی وجہ سے ملک میں عام تعطیل ہوگی اور بینک وغیرہ بند رہیں گے اس لئے تیس اپریل کو سیلری دیئے جانے کا امکان ہے، لیکن مزدوروں کے عالمی دن سے پہلے سنو میں کام کرنے والے مزدوروں کو فارغ کرکے ان کے گھروں کے چولہے بجھا دیئے جائیں گے۔۔ پپو نے سنو نیوزکے مالک کو مشورہ دیا ہے کہ اخراجات میں کمی کیلئے جو فزیبلٹی آپ کو بنا کر دی گئی ہے، اس میں کم تنخواہوں والے غریب ورکرز شامل ہیں، اگر اخراجات کم ہی کرنے ہیں تو ان سفارشی اور پرچی والوں کو ادارے سے نکالا جائے جو صرف تنخواہ لے رہے ہیں اور ادارے کیلئے کسی کام کے نہیں۔۔ آپ کے ادارے میں ایک ٹکر آپریٹر تین لاکھ روپے سیلری لے رہا ہے، جب کہ عام مارکیٹ میں ٹکر آپریٹر کی تنخواہ زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار روپے ہوتی ہے، اسی طرح آپ کے ادارے کے ایک شعبے کا ہیڈ کم تنخواہ پر ہے لیکن اس کا جونیئر کہیں زیادہ تنخواہ لے رہا ہے۔۔ اسی طرح ایک شعبے کا ہیڈ چھ لاکھ روپے تنخواہ لے رہا ہے لیکن اسے یہ نہیں معلوم کہ اسے کام کیا کرنا ہے، ایڈمن کے ایک صاحب ہیں وہ بھی لاکھوں میں تنخواہ لے رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی دفتر کاچکر تک نہیں لگایا۔۔ اس طرح کے کئی معاملات ہیں، چینل کے مالک اگر کسی قابل انسان سے انکوائری کرائے تو صرف انہی معاملات سے اتنا پیسہ بچ سکتا ہے کہ کسی ملازم کو نکالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔ پپو کا مزید کہنا ہے کہ چینل کا مالک انسان دوست اور ورکر دوست ہے، لیکن شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفادار پوری کوشش کررہے ہیں کہ ادارے کی تباہی میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔۔
