راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ میں پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں بڑھتے ہوئے بحران کو بے نقاب کیا گیا ہے، جس میں جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی تاخیر اور ملازمین کے بنیادی حقوق میں کمی جیسے سنگین مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جاری معاشی دباؤ کے باعث ٹی وی، ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا اداروں میں بڑے پیمانے پر افرادی قوت میں کمی کی جا رہی ہے، جس سے خصوصاً اسلام آباد اور راولپنڈی میں صحافیوں اور تکنیکی عملے کو شدید متاثر ہونا پڑ رہا ہے۔آر آئی یو جے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میڈیا ہاؤسز کی جانب سے جبری چھانٹیوں اور تنخواہوں میں کٹوتیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر کے میڈیا ورکرز شدید مالی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ نتائج متاثرہ ملازمین سے براہِ راست تصدیق کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور نئی معلومات کے ساتھ اسے مسلسل اپڈیٹ کیا جائے گا۔رپورٹ میں متعدد ٹی وی چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں بڑے پیمانے پر ملازمین کی کمی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سچ ٹی وی نے مبینہ طور پر اپنی تقریباً 50 فیصد افرادی قوت کو فارغ کر دیا ہے، لاہور بیورو بند کر دیا گیا ہے اور اسلام آباد میں ملازمین کو واجبات ادا کیے بغیر برطرف کیا گیا ہے۔ اسی طرح آج ٹی وی میں بھی ملک گیر سطح پر رپورٹرز، کیمرہ آپریٹرز اور تکنیکی ٹیموں کو متاثر کرنے والی ڈاؤن سائزنگ جاری ہے۔مزید برآں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم نکتہ نے درجنوں ملازمین کو بغیر پیشگی اطلاع کے برطرف کر دیا، جبکہ اب تک نیوز نے اسلام آباد میں کئی ملازمین کو فارغ کرنے کے ساتھ بیورو آپریشنز کو محدود کر دیا ہے۔ نیوز ون میں بھی مختلف شہروں کے دفاتر میں برطرفیوں کی اطلاعات ہیں، جبکہ اردو نیوز اور انڈیپنڈنٹ اردو میں سینئر صحافتی عہدوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ جی ٹی وی کا نام بھی جاری برطرفیوں کی رپورٹس میں شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ نیو نیوز اور جی ٹی وی میں دو سے تین ماہ تک تنخواہوں کی تاخیر کی اطلاعات ہیں، جبکہ سنو نیوز میں بھی تنخواہوں کی غیر مستقل اور بے قاعدہ ادائیگی نے ملازمین کے مالی مسائل میں اضافہ کیا ہے۔پرنٹ میڈیا کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیلی جنگ سمیت دیگر اداروں میں ملازمین کو واجبات کی ادائیگی نہ ہونے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں عملہ طویل عرصے سے تنخواہوں کے بقایاجات کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ صورتحال روایتی میڈیا اداروں کو درپیش مالی مشکلات کی عکاسی کرتی ہے، جو کم ہوتی آمدنی کے باعث خود کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کئی اداروں نے ملازمین کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات بھی کم یا ختم کر دی ہیں۔ فیلڈ اسٹاف کے لیے پٹرول اور گاڑیوں کی دیکھ بھال کے الاؤنسز میں کٹوتی کی گئی ہے، جس سے صحافیوں کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر اثر پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین ملازمین کے لیے پک اینڈ ڈراپ سروسز بھی متعدد اداروں میں بند کر دی گئی ہیں، جس سے کام کی جگہ تک رسائی اور سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
