خصوصی رپورٹ۔۔
مارچ 2026 کے دوران صحافیوں کو درپیش خطرات کے حوالے سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب وہ صوبہ بن کر سامنے آیا جہاں سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار فریڈم نیٹ ورک کے تحت پاکستان پریس کلب سیفٹی ہبز نیٹ ورک نے جمع کیے، جن میں پرنٹ، ٹیلی وژن اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو متاثر کرنے والے پانچ واقعات شامل ہیں۔ ان واقعات میں گرفتاری، قانونی کارروائی اور جسمانی تشدد جیسے اقدامات شامل ہیں۔
کبیر والا میں روزنامہ خبریں کے خصوصی نمائندے ارشد سانگا کو 20 مارچ کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب انہوں نے ضلع میں خسرہ کے باعث چھ بچوں کی ہلاکتوں سے متعلق رپورٹ شائع کی۔ بعد ازاں ان کے خلاف ایندھن سے متعلق غیر متعلقہ الزامات پر مقدمہ درج کیا گیا، جس پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی انتقامی نوعیت کی ہو سکتی ہے۔ تین روز بعد روزنامہ خبریں کے ایک اور صحافی قیصر اعجاز طوبہ سیال کو خان ضلع میں ضلع میں ایک نشے میں دھت شخص کی جانب سے سرکاری پولیس وین چلانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ پنجاب کے ضلع وہاڑی میں رپورٹر فاروق شہزاد کو چڑیا گھر کی پارکنگ فیس سے متعلق خبر پر وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر ہراساں کیا۔ بعد ازاں مقامی صحافی برادری کے دباؤ پر متعلقہ اہلکاروں کو معطل کر کے محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی۔
کوئٹہ میں ڈیجیٹل میڈیا رپورٹر مقبول احمد جعفر کو 8 مارچ کو نامعلوم افراد نے حراست میں لے کر دو سے تین گھنٹے تک بغیر کسی باقاعدہ الزام کے رکھا۔ ان کے مطابق ان سے ان کی رپورٹنگ کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی اور محتاط رہنے کی وارننگ دی گئی، جو غیر رسمی دباؤ کے استعمال پر تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔خیبر پختونخوا کے علاقے لنڈی کوتل میں سینئر صحافی قاضی عبدالرؤف پر 13 مارچ کو مبینہ طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے تشدد کیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئے اور ان کی گاڑی کو تقریباً چار لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔
فریڈم نیٹ ورک کے مطابق تمام پانچ واقعات میں ریاستی ادارے بطور مرکزی فریق سامنے آئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں صحت عامہ، گورننس اور عوامی احتساب جیسے موضوعات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران قانونی اور جسمانی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق میڈیا اداروں کو چاہیے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں، شفاف قانونی عمل کی حمایت کریں اور ایسے غیر رسمی یا انتقامی اقدامات کے خلاف ہوشیار رہیں جو آزادیٔ صحافت اور عوامی مفاد کی رپورٹنگ کو متاثر کر سکتے ہیں۔(خصوصی رپورٹ)۔۔۔
