سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو سینئر صحافی، مطیع اللہ جان پر فرد جرم عائد کرنے سے روک دیا، جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مسرت پر مشتمل تین رکنی بنچ نے تھانہ آئی نائن پولیس کے منشیات برآمدگی ،کار سرکار میں مداخلت ، اسلحہ چھیننے ،سنگین نتائج کی دھمکیوں اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت درج مقدمہ میں اپیل مظور کرتے ہوئے مقدمہ میں انسداددہشت گردی کی دفعہ ختم کرنے کی درخواست کی جلد سماعت مقرر کر کے فیصلہ سنانے کی ہدایت بھی جاری کردی ۔سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اس مرحلے پر کیس کے میرٹ میں نہیں جائے گی تاکہ کسی بھی فریق کو پیشگی فائدہ یا نقصان نہ پہنچے۔سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایات جاری کرنے کی مخالفت نہیں کی۔ مطیع اللہ جان کے وکیل بیرسٹر قدیر جنجوعہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ کو اس کیس کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں اور دہشتگردی کی دفعات کا اطلاق قانونی طور پر درست نہیں۔
